السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سوال یہ کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاقِ رجعی دیدی اور ایک سال پہلے رجوع کرلیا تھا ، پھر فون پر آپسی جھگڑے میں کہا کہ اگر وہ فلاں جگہ پر ہے تو اس کو تین طلاق ہے ، کیا طلاق ہو جائیگی یا نکاح میں رہنے کی کوئی صورت ہو سکتی ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر شخصِ مذکور نے اپنی مدخول بہا بیوی کو ایک طلاق رجعی دے کر دورانِ عدت ہی رجوع کر لیا تھا ، تو رجوع درست ہو کر نکاح حسبِ سابق برقرار تھا، جبکہ حالیہ واقعہ میں اگر اس کی بیوی مذکور جگہ پر موجود تھی ، اور شخصِ مذکور نے یہ جملہ ( اگر وہ فلاں جگہ پر ہے تو اس کو تین طلاق ہے ) کہا تو اس سے اس کی بیوی پر بقیہ طلاقیں بھی واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے ، اور چوتھی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
قال اللہ تعالیٰ: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ(الی قولہ تعالیٰ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (سورۃ البقرۃ آیۃ 228)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ ( 3/187 فصل وأما حکم البائن ط سعید)۔