بدقسمتی سے میں نے اپنی بیوی کو تین ہفتہ پہلے ایک طلاقِ رجعی دی، میرا تین ماہ کے اندر رجوع کرنے کا پورا ارادہ تھا، طلاق دینے کے دو دن بعد اپنی بیوی کو رجوع کا میسج کیا، جس کی انہوں نے تصدیق کر دی کہ ان کو میسج مل گیا ہے ، البتہ میری بیوی دکھی تھی اور وہ اپنی بھائی کیساتھ رہ رہی ہے، اور دو دن سے میرے ساتھ رابطہ نہیں رکھنا چاہ رہی ہے ، طلاق کے دو دن بعد میں نے رجوع کا میسج کیا تھا، اس نے میسج کو پڑھا بھی، اور میں نے ان کو یہ بات بتائی کہ میں نے رجوع کے میسج پر دو گواہ بنائے ہیں، اور وہ گواہ بالغ مسلمان زوجین ہیں، جس پر ہم دونوں اعتبار کرتے ہیں، میں آپ سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں نے طلاق کے دو دن بعد رجوع کر لیا تھا، کیا میری بیوی کا رجوع میں رضامند ہونا شامل ہے، کیا میرا نکاح تین ماہ کے بعد بھی رہے گا، اگر وہ میرے پاس نہ آئے یاوہ رضا مندی ظاہر نہ کرے ؟
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو اس طور پر کہ سائل نے ایک طلاقِ رجعی دیگر عدت کے اندر رجوع بھی کرلیا تھا، جس کے گواہ بھی موجود ہیں تو سائل کا رجوع کرنا درست ہوا ہے، اور دونوں کے درمیان نکاح بحال ہو چکا ہے ، اگر چہ بیوی اس پر رضا مند نہ ہو، یا رہنے کے لئے اس کے پاس نہ آتی ہو، لہذا دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، البتہ سائل کو آئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار ہے گا، جب بھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا ، تو سائل کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔
كما في الهندية :الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.
. ألفاظ الرجعة صريح وكناية فالصريح : راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها وحضورها أيضا ومن الصريح ارتجعتك ورجعتك ورددتك وأمسكتك ومسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية. والكناية : أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية كذا في فتح القدير. اھ (1/468)
وفی بدائع الصنائع: وأما ركن الرجعة فهو قول أو فعل يدل على الرجعة: أما القول فنحو أن يقول لها: راجعتك أو رددتك أو رجعتك أو أعدتك أو راجعت امرأتي أو راجعتها أو رددتها أو أعدتها، ونحو ذلك؛ لأن الرجعة رد، وإعادة إلى الحالة الأولى، ولو قال نكحتك أو تزوجتك كان رجعة في ظاهر الرواية.(الی قولہ) وأما الفعل الدال على الرجعة فهو أن يجامعها أو يمس شيئا من أعضائها بشهوة أو ينظر إلى فرجها عن شهوة أو يوجد شيء من ذلك ههنا على ما بينا اھ (3/183)۔