میری شادی کو ساڑھے تین سال ہوگئے ہیں، شادی کے فوراً بعد ہمارے جھگڑے شروع ہوگئے ، کافی بار غصے میں آکر میں نےبیگم کو کہا" چلی جاؤ ادھر سے، کوئی دوسرا دیکھ لو ، آج سے تم فارغ ہو میری طرف سے" مطلب طلاق بائن واقع ہوگئی، اب مجھے طلاق بائن کا علم 20 دن پہلے ہوا، 20 دن پہلے میری بیگم اپنے والدین کے گھر تھی اپنی بہن کی شادی کے سلسلے میں، کل میری بیگم آئی اور ہم نے ہمبستری کرلی، تو سر اب کیا حکم ہے کیا کرنا چاہیئے، کیونکہ میں ذہنی طور پہ شدید ڈپریشن میں آگیا ہوں، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ، سر ہمیں کبھی بھی کسی نے بھی بائن طلاق کا نہیں بتایا نہ ہی علماء کی طرف سے سنا، یہ نئی چیز پڑھ کر حیران و پریشان ہوگیا ہوں، کیونکہ ہمیں یہ ہی پتہ تھا رشتہ صرف طلاق لفظ سے ختم ہوتا ہے بہرحال سر رہنمائی فرمائیں، اب میری بیوی 4 ماہ سے حمل میں بھی ہے ، امید کرتا ہوں پروردگار سے کوئی درمیانہ میرے حق میں فیصلہ آئیگا انشااللہ . یہ بھی پڑھا تھا ایک طلاق بائن کے بعد دوسری نہیں ہوتی کیونکہ پہلی طلاق بائن کے بعد نکاح ختم ہوجاتا ہے۔
سائل کے سوال میں یہ وضاحت نہیں کہ سائل نے اپنی بیوی کوکس کس موقع پر اور کس نیت سے مذکور الفاظ "چلی جاؤ ادھر سے ، کوئی دوسرا دیکھ لو" کہے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائل نے مذکور الفاظ " چلی جاؤ ادھر سے ، کوئی دوسرا دیکھ لو " طلاق کی نیت سے نہ کہے ہو ں تو اس سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی تھی ، البتہ اس کے بعد سائل نے جو جملہ استعمال کیا ہے "آج سے تم فارع ہو " اس سے چونکہ عند القرینہ طلاقِ بائن ہوجاتی ہے ، چنانچہ اگر سائل نے لڑائی جھگڑے اور طلاق کے متعلق گفتگو کے دوران اپنی بیوی کو مذکور جملہ کہا ہو ، تو اس سے طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ، چنانچہ اس کے بعد سائل کے لئے بغیر تجدید ِنکاح کے ازواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں تھا، جس پر سائل کو بصدقِ دل توبہ و استغفار لازم ہے ، البتہ اگر دونوں میاں بیوی ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں ، تو ایسی صورت میں باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید ِ نکاح کرکے میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں، تاہم تجدید ِ نکاح کےبعد آئندہ کےلئے سائل کے پاس دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہئیے۔
کما فی الھندیة : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها۔۔۔الخ(473/1)۔
و فی الدر المختار: (و ينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب۔(3/ 409)۔
و فی المبسوط للسرخسی: ولو تزوجھاقبل التزوج او قبل اصابۃ الزوج الثانی کانت عندہ بما بقی من التطلیقات۔(6/65)۔