السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی اور لڑکی نے عدت کے دن اپنے والدین کے ہاں گزارے، عدت کے دوران لڑکے کو اپنی مطلقہ کے بارے میں شہوانی خیالات آئے یا خود سے قصداً خیالات لائے ، توکیا رجوع ہو جاتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ شرعاً رجوع کی صحت و درستگی کے لئے دوران عدت شوہر کا قولاً" میں رجوع کرتا ہوں" وہ میری بیوی ہے" جیسے الفاظ کہنا یاعملاً بیوی سے میاں بیوی والا تعلق قائم کرنا یا اس سے بوس وکنار کرنا ضروری ہے، فقط بیو ی کے متعلق شہوانی خیالات ذہن مین لانے سے رجوع نہیں ہوتا، لہذا سوال میں مذکور شخص کا بیوی کو ایک طلاق رجعی دینے کے بعد دوران عدت اس کے متعلق صرف شہوت بھرے خیالات ذہن میں لانے سے رجوع درست نہیں ہوا، تاہم اگر شوہر رجوع کرنا چاہتا ہو، اور بیوی کی عدت ابھی باقی ہو تو اسے چاہئے کہ وہ زبانی یاعملاً رجوع کرلے تاکہ شرعاً بھی یہ رجوع درست ہو کر میاں بیو ی کا نکاح حسب سابق برقرار رہ سکے، ورنہ رجوع کئے بغیر عدت مکمل ہونے کی صورت میں عورت اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی الدرالمختار : وتصح مع إكراه وهزل ولعب وخطإ (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس ولو منها اختلاسا،الخ (ج3 ص 398 باب الرجعۃ ط سعید)۔
و فیہ ایضاً: (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة)الخ(ج3 ص397 باب الرجعۃ)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل.(الی قولہ) (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائما قبل انقضائها. اهـ.(الی قولہ) (قوله: كمس) أي بشهوة كما في المنح،الخ (ج3 ص 398 باب الرجعۃ ط سعید)۔