میں اپنی بیوی کو ایک مجلس میں دو طلاقیں دے چکا ہوں ، اور اس وقت میں انتہائی غصہ میں تھا، بیوی سات ماہ کے حمل سے ہے، برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں ؟
نوٹ: سائل نے پندرہ دن قبل ان الفاظ سے طلاق دی کہ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتاہوں، اور رجوع بھی کر لیا ان الفاظ سے کہ میں رجوع کرتا ہوں۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو اس طور پر کہ اس نے اپنی بیوی کومذکور الفاظ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے ساتھ دو مرتبہ طلاق دی ہو تو اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہو چکی تھیں، اس کے بعد ان الفاظ سے کہ ” میں رجوع کرتا ہوں “ رجوع بھی ہو چکا ہے ، رجوع کے بعد دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی بسرکرسکتے ہیں، لیکن آئندہ کے لئے سائل کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا، اگر کبھی وہ ایک طلاق بھی دیدے تواس سے اس کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی، اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ عقد نکاح بھی نہیں ہوسکے گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط کی ضرورت ہے۔
كما في الهندية : (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. وزوال حل المناكحة متى تم ثلاثا كذا في محيط السرخسي.(1/348)
وفیھا ایضاً: الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.(1/468)۔