ایک جولائی کو ویڈیو میسج میں بیوی کو کہا میری طرف سے طلاق ہے ، 17جولائی کو اسے ایک خط لکھا اور اسکے بعد ایک لیگل نوٹس بھی بھیجا ، اور 23 بار فون پر بھی بات کی کہ واپس گھر آ جاؤ ، پھر ایک ثالثی کو بیوی نے کہا کہ رجوع نہیں ہوا ،میں نے عدت کاٹ لی اور نکاح ختم ہو گیا ، تو کیا نکاح ختم ہو گیا ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں، سکین کاپی میں ، تاکہ میں اسے عدالت میں استعمال سکوں ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے یکم جولائی کو اپنی بیوی کیساتھ ویڈیو کال کے ذریعے بات چیت کے دورانِ جب اسے مذکور الفاظ "میری طرف سے طلاق ہے "کہہ دیے تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی ،جس کے بعد دورانِ عدت سائل کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا،لیکن اگر سائل نے عدت کے دوران بیوی سے شہوت کے ساتھ بوس و کنار یا میاں بیوی والے تعلقات قائم کرکےعملی یا زبانی طور پر رجوع نہ کیا ہو، بلکہ محض سوال کے ساتھ منسلکہ خط اور لیگل نوٹس اپنی بیوی کو بھیجے ہوں تو منسلکہ تحریر ناموں کا بغور جائزہ لینے کے بعد اس میں رجوع کے الفاظ نہیں ملے ،اس لئے فقط مذکور خط اور لیگل نوٹس بیوی کو بھیج دینے سے شرعاً رجوع نہیں ہوا ،لہٰذا منسلکہ تحریر ناموں کے علاوہ اگر سائل نے عدت کے دوران قولاً یا عملاً رجوع نہ کیا ہو اور عورت کی عدت گزر چکی ہو تو ایسی صورت میں شرعاً سائل کا اپنی بیوی سے نکاح ختم ہوچکا ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا ،تاہم اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کیلئے نئے حقِ مہر کے ساتھ شرعی گواہان کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح لازم ہوگا ،جبکہ تجدیدِ نکاح کے بعد آئندہ کیلے سائل کو فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ۔
کما فی الدر المختار : (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) و لو بالفارسية (كطلقتك و أنت طالق ومطلقة) اھ(3/247)۔
و فی الہندیۃ : ( ألفاظ الرجعة صريح و كناية) (فالصريح) : راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها و حضورها أيضا و من الصريح ارتجعتك و رجعتك و رددتك و أمسكتك و مسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية.(و الكناية) : أنت عندي كما كنت و أنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية كذا في فتح القدير اھ (1/468)۔
و فیہ ایضا : و لا يجوز تعليق الرجعة بالشرط بأن يقول : إذا جاء غد فقد راجعتك و إذا دخلت الدار و إذا فعلت كذا فهذا لا يكون رجعة إجماعا كذا في الجوهرة النيرة اھ (1/470)۔
و فی الہدایۃ : " و إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض ( الی قولہ )و إنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " و الرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " اھ (2۔254)۔