کیا فرماتے ہیں علماءِ دین کہ "اللہ رکھا" نامی شوہر کے بیان کے متعلق کہ :" میں نے اپنی بیوی کو ایک مرتبہ اپنے گھر میں طلاق دی 15جون2023 کو اور ایک مرتبہ اسی دن اس کے والدین کے گھر میں ایک طلاق دی ۔شریعت میں اس کا حل کیا ہے ؟ ایضاً رجوع کا طریقہ بھی بتائیں - جزاک اللہ خیرا کثیرا
سائل نے یہ نہیں بتایاکہ مسمی اللہ رکھا نے طلاق دیتے وقت کیا الفاظ استعمال کیے تھے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگر اس نے طلاق کیلئے صریح الفاظ کہے ہوں اور ایک ہی دن میں وقفہ وقفہ سے دو بار طلاق کے الفاظ کہدیے ہوں تو اس سے مذکور شخص اللہ رکھا کی بیوی پر دو طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہیں ،لہذا دورانِ عدت رجوع کرسکتاہے،البتہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں تجدیدِ نکاح لازم ہوگا ۔
جب کہ رجوع زبانی بھی ہوتی ہے اور عملی بھی, زبانی رجوع یہ ہے کہ شوہر زبان سے کہدے کہ میں نے رجوع کر لیا اور عملی رجوع اس طرح ہوتی ہے کہ ہمبستری کر لیں یا بوس و کنار کرلیں -