کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ گھر میں لڑائی جھگڑے کی وجہ سے میں نے اپنی بیوی کو غصہ میں کہا کہ"کہ تا دہ دی نہ سہ واغستل یا دے ورکڑل نو زمانہ بہ پاتے ئے" (اگر آئندہ تم نے ان( میری بھابھیوں) سےکچھ لیا یا انکو کچھ دیا تو تم مجھ سے چھوٹ گئی ہوگی ) یہ الفاظ میں نے دو مرتبہ بولے ہیں،لیکن اس وقت انکو خاموش کرنے اور لڑائی ختم کرنے کیلئے غصہ میں کہا تھا ،طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی ،یہ بات بالکل بھی ذہن میں نہ تھی ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اب ایک گھر جوائنٹ فیملی ہے،اگر اب یہ آپس میں لین دین کریں تو کیا طلاق واقع ہوگی ؟ اگر ہوگی تو کتنی ؟ جو بھی حکمِ شرعی ہو تفصیل سے تحریر فرمائیں۔
نوٹ:بیوی کا بھی یہی بیان ہے۔
واضح ہو کہ "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "جیسے الفاظ کے سیاق و سباق میں اگر کسی اور معنی مراد لینے پر کوئی قرینہ موجود نہ ہو , تو پشتو عرف و محاورے میں یہ الفاظ طلاق کے معنیٰ میں استعمال کیے جاتے ہیں،اور یہ اردو کے الفاظ" میں نے چھوڑ دیا وغیرہ "کے ہم معنیٰ ہیں، لہٰذا سائل نے لڑائی جھگڑے کے دوران غصے کی حالت میں بیوی کو اپنی بھابھیوں کیساتھ لین دین سے روکنے اور منع کرنے کی غرض سے جو الفاظ کہے"کہ تا دہ دئی نہ سہ واغستل یا دے ورکڑل نو زمانہ بہ پاتے ئے"(اگر آئندہ تم نے ان ( میری بھابھیوں) سےکچھ لیا یا انکو کچھ دیا تو تم مجھ سے چھوٹ گئی ہوگی )ان سے تعلیقِِ طلاق منعقد ہو چکی ہے، لہٰذا اب اگر سائل کی بیوی نے ان (سائل کی بھابھیوں) سےکچھ لیا یا ان کو کچھ دیا تو اس کیوجہ سے سائل کی بیوی پر دو معلق طلاقِ رجعی واقع ہو جائیں گی، جن کا حکم یہ ہے کہ سائل اگر دورانِ عدت زبانی طور پر رجوع کرلے، یا میاں بیوی والے تعلقات قائم کرکےشہوت کیساتھ بیوی کو چھو کرعملی طور پر رجوع کر لے تو اس سے رجوع درست ہوجائیگا اور دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا ،ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہوجائیگا، اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، تاہم عدت گزرنے کے بعد بھی اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے آمادہ ہوں تو اس کیلئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں , نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا، بہر صورت سائل کو آئندہ کیلئے فقط ایک طلاق کا اختیار باقی رہیگا ،ا سلئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ : الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَان الآیة(البقرة: 229)-
و فی الہدایة : و إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين ، فله أن یراجعہا في عدتها ، رضيت بذلك أو لم ترض ، لِقَوْلِهِ تَعَالَى]:فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ}[البقرة: ٢٣١] من غير فصل . و لا بد من قيام العدة ، لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمي إمساكا و هو الإبقاء۔(2/405)-
و فی رد المحتار : قوله سرحتك و هو"رها كردم"لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ و قد صرح البزازي أولا بأن "حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال : و لو قال حلال"أيزدبروي"أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف و أنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه و بين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال" رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لولا ذلك لوقع به الرجعي . (3/299)-
و فی الہندیة : و لو خلل الشرط فقال : أنت طالق إن دخلت الدار أنت طالق إن دخلت الدار أنت طالق إن دخلت الدار أو قدم الشرط اھ (1/430)-
و فی الہندیة : و إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته : إن دخلت الدار فأنت طالق اھ(1/420)-