میں ملازمت کیلئے سعودیہ میں مقیم ہوں اور میری بیوی پاکستان میں رہتی ہے ،میں نے جھگڑے کی وجہ سے میسج کے ذریعے ایک طلاق دیدی ،اب اگر رجوع کرنا چاہوں تو کیا طریقہ ہے ،جب کہ میں نے میسج میں لکھا کہ تجھے طلاق دی ،یہ ایک طلاق ،باقی پندرہ دن کے وقفے سے دوں گا ،نیت تھی اگر سدھر جائے گی تو رجوع کرلوں گا ۔
مذکور میسج کے بعد اگر سائل نے مزید کوئی طلاق نہ دی ہو تو اس سے اس کی بیوی پر صرف ایک طلاق ِرجعی واقع ہوچکی ہے ،اب اگر سائل دوبارہ رجوع کرنا چاہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی کی عدت (تین ماہواری )کے اندر دو گواہوں کی موجودگی میں زبانی رجوع کر لے ،اور اس کے بارے میں بیوی کو بھی خبر دے کہ میں نے رجوع کر لیا ہے، ورنہ عدت گزرنے کے بعد گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے ساتھ نکاح کرنا پڑے گا ۔
کما فی الشامیة:الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغسير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة اھ (3/246)۔
وفی الھدایة:واذا طلق الرجل امرآته تطلیقةً رجعیةً او تطلیقتین فله ان یراجعھا فی عدتھا رضیت بذالک او لم ترض لقوله تعالی:فامسکوھن بمعروف من غیر فصل (الی قوله) والرجعة ان یقول راجعتک او راجعت امراتی(الی قوله) ویستحب ان یشھد علی الرجعة شاھدین فان لم یشھد صحت الرجعة(الی قوله) ویستحب ان یعلمھا کیلا تقع فی المعصیة الخ اھ(2/314)۔