کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک طلاق رجعی دی اور اس کے بعد تین مہینے(ایامِ عدت) گزرگئے ہے، اب آیا میں اپنی بیوی کو رکھ سکتا ہوں یا نہیں ؟دوسری جگہ شادی کر سکتا ہوں یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں ،جبکہ میں نے ایک طلاق دی اوررجوع بھی نہیں، کیا میری بیوی کی عدت بھی مکمل ہو گئی؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اگر اپنی بیوی کو فقط ایک طلاقِ رجعی دی ہو اور عدت کے دوران سائل نے رجوع بھی نہ کیا ہو تو عدت گزرنے سے وہ طلاقِ بائن بن چکی ہے ، اور اس کی وجہ سے دونوں میاں بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم ہوچکا ہے ، چنانچہ اب سائل کی بیوی اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، اسی طرح سائل کےلئے بھی کسی دوسری جگہ نکاح کرنے کی شرعاً کوئی ممانعت نہیں ، تاہم اگر سائل اور اس کی مطلقہ بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے ، مگر اس کے لئے باقاعدہ شرعی گواہاں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا ، البتہ تجدید نکاح کے بعد سائل کے پاس آئندہ کے لئے دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا ، جب کبھی دو طلاقیں بھی دیدے گا ، تو اس کی بیوی اس پرحرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہے ۔
کمافی الھدایة : و إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة و بعد انقضائھا؛ لأن حل المحلیة باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فینعدم قبله. (257/2)۔
و فی الھندیة : إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة و بعد انقضائها.( ۱/۴۷۲)۔