میں محمد وسیم آپ سے اپنے ایک مسئلے کے حل کا طلب گار ہوں ، وہ یہ کہ میں نے اپنی بیوی جویریہ ذکی بنت محمد ذکی کو نفسیاتی بیماری اور دماغی کمزوری کی وجہ سے طلاق کا ایک نوٹس بذریعہ ڈاک ارسال کیا جس میں لکھی ہوئی طلاق کی تعداد ایک ہے ، بقیہ دو طلاقوں کے نوٹس اس وجہ سے نہیں ارسال کیے تاکہ ان کی طرف سے کوئی صلح کی کوشش کی جائے ، ابھی تین مہینے قبل میری بیوی جویریہ ذکی نے مجھ سے خود رابطہ کیا کہ وہ اب صلح چاہتی ہے ، اور اب کوئی دماغی نفسیاتی مسائل بھی نہیں ، میں نے بھی جویریہ ذکی میں کافی تبدیلی محسوس کی ، یاد رہے کہ جب میں نے ان کو طلاق کا نوٹس بھیجا تو میری بیوی حاملہ تھی جو کہ اب ایک بیٹے کی ماں بن چکی ہیں ، تو ظاہر ہے اب مجھے اپنی اولاد کا بھی سوچنا ہے ، کیونکہ ان سب کی وجہ سے میری اولاد پر بہت گہرا اثر پڑیگا ، لہذا ہم اگر رجوع کی طرف جائیں تو میرے اور میری بیوی کے لئے کیا حکم ہے ؟ کہ ہم دوبارہ اپنی زندگی سکون سے گزارسکیں ، مجھے اس کا دینی حل مطلوب ہے ؟ دی گئی طلاق کو تقریباً (2) سال کا عرصہ گزرچکا ہے ، اس دوران میں نے اپنی بیوی بیٹے کا خرچہ ہر مہینے ادا کیا ہے ۔
واضح ہو کہ حمل کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے اپنی بیوی کو فقط ایک طلاق پر مشتمل طلاق کا نوٹس ارسال کیاہو ، اس کے علاوہ سائل نے طلاق کا مزید کوئی نوٹس بنوایا اور ارسال نہ کیا ہو ، تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے ، جس کے بعد سائل کو عدّت کے دوران رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا ، البتہ اگر سائل نے دوران عدت رجوع نہ کیا ہو تو وضع حمل ( بچے کی پیدائش ) کے ساتھ ہی دونوں کا نکاح ختم ہوچکا تھا جس کے بعد سائل کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل نہیں، تاہم اگر سائل اور اس کی بیوی دوبارہ میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا چاہیں ، تو اس کے لئے با ضابطہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح لازم ہوگا، تاہم آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کرنا چاہئے۔
کما فی رد المحتار : تحت(قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها(الی قولہ) ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابةالخ ( ج3 ص 246 مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ط سعید)۔
وفی الھندیۃ: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير.الخ (ج1 ص 348 کتاب الطلاق الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ وشروطہ وحکمہ ط ماجدیۃ)۔
وفی الھدیۃ:لو ولدت بعدہ تنقضی العدۃ بالولادۃ فلاتتصور الرّجعۃ الخ ( ج1 ص 408 باب الرجعۃ ط رحمانۃ)۔
وفیھا ایضا: وطلاق الحامل یجوز عقیب الجماع الخ ( ج1 ص375 کتاب الطلاق ط رحمانۃ )۔