السلام علیکم!
میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق لکھ کر دی تھی(میں تمہیں طلاق دیتا ہوں) اس کے بعد ہم ساتھ رہ رہے تھے ایک مہینہ ہمارا ساتھ گزرا جس میں ازدواجی تعلق بھی قائم ہوا، اس کے بعد ہم الگ ہوگئے بغیر کچھ کہے، مطلب وہ اپنے گھر چلی گئی، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ طلاق واقع ہوچکی ہے یا وہ ابھی بھی میرے نکاح میں ہے؟
سائل کا اپنی بیوی کو بلا جبر و اکراہ تحریری صورت میں مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے ذریعہ ایک طلاق دینے سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی تھی ، جس کے بعد سائل کو دورانِ عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا، چنانچہ سائل نے جب اپنی بیوی سے دورانِ عدت ازدواجی تعلق قائم کرلیا تو اس سے یہ رجوع بھی درست ہو کر سائل اور اس کی بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے اور ان کا میاں بیوی کی طرح ساتھ زندگی بسر کرنا بھی درست ہے،تاہم سائل کو آئندہ کے لئے فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہے، لہٰذا طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
و فی الھندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.اھ ( ج۱ ، ص۴۷۰ ، کتاب الطلاق ، ط۔ماجدیہ )۔
كما في الدر المختار: ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة اھ (3/ 246)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله طلقت بوصول الكتاب) أي إليها ولا يحتاج إلى النية في المستبين المرسوم، ولا يصدق في القضاء أنه عنى تجربة الخط بحر، ومفهومه أنه يصدق ديانة في المرسوم رحمتي. ولو وصل إلى أبيها فمزقه ولم يدفعه إليها، فإن كان متصرفا في جميع أمورها فوصل إليه في بلدها وقع، وإن لم يكن كذلك فلا ما لم يصل إليها. وإن أخبرها بوصوله إليه ودفعه إليها ممزقا، إن أمكن فهمه وقراءته وقع وإلا فلا ط عن الهندية. وفي التتارخانية: كتب في قرطاس: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق ثم نسخه في آخر أو أمر غيره بنسخه ولم يمله عليه فأتاها الكتابان طلقت ثنتين قضاء إن أقر أنهما كتاباه أو برهنت اھ (3/ 246)
و فى الدر المختار: (والكتابة كالخبر) اھ (3/ 807)