ترجمہ : براہِ مہربانی میرے سوال کا جواب دیجیے گا ، میرے خاوند نے مجھے ایک بار طلاق کا لفظ بولا ہے اور اس کے بعد زبردستی مجھ سے رجوع کیا ، میں دل و دماغ سے راضی نہیں تھی اور اب رجوع کیے ہوئے ایک مہینہ ہوگیا ہے ، براہِ مہربانی آپ بتائیں کہ اب کیا نکاح باقی ہے یا دو مہینے کے بعد ختم ہوجائے گا ؟
واضح ہو کہ رجوع درست ہونے کے لئے شرعاً عورت کی رضا مندی ضروری نہیں ہے ، بلکہ اس کے بغیر بھی رجوع ہوجاتا ہے ، لہذا سائلہ کے شوہر نے اگر سائلہ کو ایک طلاقِ رجعی دی ہو اور پھر دورانِ عدت رجوع کر لیا ہو تو اس رجوع پر اگرچہ سائلہ رضامند نہ ہو ، تب بھی شرعاً رجوع ہو چکا ہے اور دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے ۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ : تصح الرجعة مع الإكراه و الهزل و اللعب و الخطأ كالنكاح اھ (1/470)۔