غلام رسول نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے آپ کو طلاق دی , اس کے بعد صلح ہوگئی , کچھ دنوں بعد دوبارہ لڑائی ہوئی اور پھر بیوی سے کہا کہ میں نے طلاق دی , اس کے دوبارہ صلح ہو گئی , اس کے بعد دو بچے پیدا ہوئے اور پھر لڑائی ہوئی تو تیسری طلاق بھی دے دی , اب مسئلہ یہ درکار ہے کہ یہ میاں بیوی دوبارہ اکٹھے ہونا چاہیں تو کوئی صورت ہے یا نہیں؟ یا تینوں طلاقیں ہو چکی ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں مسمی غلام رسول نے الگ الگ مجلسوں میں اپنی بیوی کو اگر صریح طلاقیں دی ہوں،اور پھر پہلی دو طلاقوں میں عدت کے دوران رجوع کرلیا ہو تو ان کا رجوع کرنا درست تھا،البتہ جب شوہر نے تیسری طلاق دیدی ہے تو اس سے اس کی بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت ایامِ عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے -