ترجمہ:میرے شوہر نے مجھے ایک طلاق دی ،اس کے بعد مجھ سے رجوع کرلیا ،پھر میرے بھائی کو کہا کہ میں نے آپ کی بہن کو طلاق دی ،تو اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ،اور کیا تجدیدِ نکاح کرنا پڑے گا ؟
سائلہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اس کے شوہر نے کن الفاظ سے طلاق دی ،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،البتہ اگر سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو لفظِ صریح "کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں یا تجھے طلاق ہے "وغیرہ الفاظ سے طلاق دی ہو ، اور اس کے بعد دورانِ عدت زبانی طور پر یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کرکے رجوع کرلیا ہو تو یہ رجوع شرعاً درست ہو چکا تھا ،اور دونوں کا ساتھ رہنا شرعاً درست تھا ،البتہ حالیہ واقعہ میں سائلہ کے شوہر نے دوسری مرتبہ سائلہ کے بھائی کے سامنے یہ کہا "کہ میں نے آپ کی بہن کو طلاق دی"اور اس سے سائلہ کے شوہر کی نیت نئے طلاق دینے کی نہ تھی ،بلکہ پہلے دی ہوئی طلاق کی خبر دینا مقصود تھا ،تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،لہٰذا دونوں حسبِ سابق ساتھ رہ سکتے ہیں ،
تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو مکمل تفصیل کے ساتھ سوال دوبارہ لکھ کر ارسال کریں ،ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کردیا جائے گا ۔
کما فی الدر المختار : باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) و لو بالفارسية (كطلقتك و أنت طالق و مطلقة)اھ(3/247)۔
و فی الہندیۃ : و لو قال عنيت بالثاني الإخبار عن الأول لم يصدق في القضاء و يصدق فيما بينه و بين الله تعالى و لو قال لامرأته أنت طالق فقال له رجل ما قلت فقال طلقتها أو قال قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء كذا في البدائع اھ(1/355)۔
و فی الہدایۃ : " و إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل و لا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك اھ(2/254)۔