میں اپنی بیوی کو دو طلاق دے چکا ہوں( اٹھارہ یا پندرہ دن کے فرق سے ) آخری طلاق کی تاریخ 08۔6۔16 تھی ، اب میں تیسری طلاق نہیں دینا چاہتا اس حالت میں کیا میں اُس سے رجوع کر سکتا ہوں ۔
اگر سائل نے واضح اور صریح لفظوں میں طلاق دی ہو اور بیوی کی عدت بھی ابھی نہ گزری ہو تو اس صورت میں وہ رجوع کر کے دوبارہ با ہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتا ہے ، مگر آئندہ کیلئے اسے فقط ایک طلاق کا اختیار رہے گا اور اگر الفاظ طلاق صریح نہ ہوں بلکہ کچھ اور ہوں تو اسکی مکمل وضاحت کر کے دوبارہ حکم شرعی معلوم کرنا ضروری ہے ۔
في الھداية : اذا طلق الرجل امراته تطليقة رجعية او تطليقتين فله ان يراجعها في عد تھارضيت بذلك اولم ترض (1/470)۔
وفيه ايضاً :اذاكان الطلاق بائنادون الثلاث فله ان يتزوجها في العدة وبعد انقضائھا اھ(1/472)۔ واللہ اعلم بالصواب