اگر شوہر ایک دفعہ کتابۃً اپنی بیوی کو طلاق دے دیں ، اور سات ماہ تک اپنی بیوی کے ساتھ رابطہ تک نہ کرے ، تو مکمل طلاق واقع ہو جا ئیگی یا ایک طلاق ، اور اس صورت میں عورت دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے؟
شوہر نے اگر واقعۃً صرف ایک تحریری طلاق دی ہو اسکے علاوہ تحریری یا زبانی طلاق نہ دی ہو اور اس طلاق کے بعد سے مذکورمدت یعنی سات ماہ تک شوہر نے رجوع بھی نہ کیا ہو جیسا کہ سوال میں بھی مذکور ہے۔ تو اس صورت میں عورت پرایک طلاق بلاشبہ واقع ہو چکی ہے اور رجوع نہ کرنے سے وہ بائنہ ہو کرشخص مذکور کے نکاح سے بھی نکل چکی ہے،اس لئے اگر وہ کسی بھی دوسرے مسلمان مرد کیساتھ نکاح کرنا چاہے تو بلا شبہ کر سکتی ہے۔
کمافی الشامیة:تحت (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين(الی قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو(3/246)