السلام علیکم، کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زبیدہ آن لائن بزنس کرتی ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ زبیدہ کے پاس سٹاک نہیں ہے، بلکہ دوسرے شہروں کے ڈیلرز ہیں جن کے پاس سٹاک اور دکانیں ہیں۔ وہ زبیدہ کو سٹاک کی تصاویر اور تفصیلات آن لائن بھیجتے ہیں، پھر زبیدہ ان میں سے اپنے مطلوبہ سٹاک کی پکچرز/تفصیلات اپنے سوشل اکاؤنٹس کے ذریعہ اپنے اسٹیٹس پر لگاتی ہے یا اپنی کمیونٹی سے شیئر کرتی ہے اور خواتین وہاں سے پسند کر کے زبیدہ کو آڈر دیتی ہیں پھر زبیدہ وہ اشیاء/اسٹاک متعلقہ ڈیلر سے ہول سیل قیمت پر فائنل کرواتی ہے، ڈیلرز کو بھی اس بزنس کامعلوم ہوتاہے کہ زبیدہ آگے منافع لگاکر اپنے کسٹمرزکو ہم سے مال منگوا کر دیتی ہے یا ان کے ایڈریس پرڈیلیور کروا دیتی ہے، متعلقہ گاہگ سے زبیدہ رقم وصول کر کے اپنا منافع نکال لیتی ہے اور ہول سیل پیمنٹ اپنے ڈیلرز کو بھیج دیتی ہے۔ مزید برآں اگر زبیدہ کے گاہگ کو چیز پسند نہ آئے تو وہ گاہک سے چیز واپس بھی لے لیتی ہے۔ کیا اس طریقہ سے آن لائن بزنس کرنا اور منافع کمانا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں تو پھر اس بزنس میں جائز منافع کی کیا صورت ہو گی؟
واضح ہو کہ خرید فروخت کے لئے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو، اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے یا ابھی تک اس کے قبضہ میں نہیں آئی تو بیع درست نہیں ہوتی ۔
چنانچہ صورتِ مسؤلہ میں زبیدہ کا مذکور اسٹاک خرید کر اس پر حسی یا معنوی قبضہ کرنے سے قبل آگے کسٹمرپر بیچنا درست نہیں ، البتہ اس کے جواز کی دو صورتیں ممکن ہیں ، جیسا کہ ذیل میں آرہا ہے :
ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زبیدہ کسٹمرز کو مذکور پراڈکٹس کی تصاویر اور ویڈیوز بھیج کر پہلے ان سے آرڈر لے ، باقاعدہ بیع کا معاملہ نہ کرے، پھر آرڈر ملنے پر مذکور ہول سیلر سے وہ چیز خرید کر اس پر از خود یا اپنے کسی وکیل کے ذریعہ حسی یا معنوی قبضہ کرنے کے بعد اس کسٹمر کو وہ چیز روانہ کردے۔
دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زبیدہ ہول سیلر سے یہ طے کرلے کہ میں آپ کی پراڈکٹس آگے فروخت کروں گی اور آپ نے مجھے پرپیس اتنی رقم بطور کمیشن دینی ہے ، چنانچہ ہول سیلر سے اپنا مارجن طے کرنے کے بعد وہ چیز آگے فروخت کرنا اور اس پر اپنا کمیشن لینا درست ہوگا۔
کما فی الھدایۃ: قال (ولا یجوز بیع السمک قبل أن یصطاد) لأنہ باع مالایملکہ، (ولا فی حظیرۃ إذا کان لا یوخذ إلا بصید) لأنہ غیر مقدور التسلیم، ومعناہ إذا أخذہ ثم القاہ فیھا لوکان یوخذ من غیر حیلۃ جاز، إلا إذا اجتمعت فیھا بانفسھا ولم یسد علیھا المدخل لعدم الملک، قال: (ولا بیع الطیر فی الھواء) لأنہ غیر مملوک قبل الأخذ وکذا لو ارسلہ من یدہ لأنہ غیر مقدور التسلیم اھ (3/34)
و کما فی الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العین بنفسہ بإذن ربھا فاجرتہ علی البائع وإن سعی بینھما وباع المالک بنفسہ یعتبر العرف وتمامہ فی شرح الوھبانیۃ،
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ:یعتبر العرف)فتجب الدلالۃ علی البائع أو المشتری او علیھما بحسب العرف جامع الفصولین اھ (4/560)
و فی الفتح: ومثل الامر المضارع المقرون بالسین نحو سابیعک فلا یصح بیعا ولا یجوز بہ فی معنی بعتک فی الحال اھ (6/251)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1