السلام علیکم و رحمۃ اللہ ! آٹھ مہینے قبل گھر کے کام نہ کرنے کی وجہ سے میں اپنی بیوی کو اس کی والدہ کے گھر چھوڑ آیا تھا ، وہ اس وقت سے اپنی والدہ کے گھر پر ہیں ، ان کی طرف سے غلطی پر کوئی ندامت نہیں ہوئی ، پھر بھی میں ان کے گھر گیا تھا اپنی بیوی کو لینے، وہ میرے گھر پر نہیں آناچاہتی، کہتی ہے مجھے الگ گھر چاہیئے ، میں اس پر بھی راضی ہوگیا تھا ، میری ایک بیٹی ہےمیں نے وہ شرط بھی مان لی، اور کہا کہ آپ گھر آئے، ایک مہینے کے اندر گھر ڈھونڈ کر الگ ہوجائیں گے ، پھر بھی وہ گھر نہیں آئی ، میں نے بہت کوشش کی اس کو لانے کی، لیکن وہ نہیں آرہی، میں نے کچھ دن قبل اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی ، طلاق میں یہ الفاظ استعمال کیے تھے میسج پر طلاق دی تھی ( جب ہم نے کچھ نہیں کرا تو سن لو میں آپ کو طلاق دیتا ہوں ) نیت میری یہ تھی کہ شاید طلاق کا سن کر وہ آجائے لیکن پھر بھی وہ نہیں آئی پھر میرے ساڑو کی کال آئی محمد معاویہ کی وہ کہہ رہے ہیں آپ طلاق سے رجوع کر لیں میں نے کہا اب میں نہیں رکھونگا ، اس کے ساتھ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ غلطی کا احساس ہوا تو میں رجوع کرونگا ، کیا اس پر طلاق واقع ہوگئی ہے ؟ یا اس میں رجوع کر سکتے ہیں ؟ شریعت کی روشنی میں اس کا جواب دیں ۔جزاکم اللہ خیرا!
سائل نے جب بیوی کو مذکور الفاظ"ہم نے کچھ کرانہیں تو سن لو میں آپ کو طلاق دیتاہوں"کے الفاظ کے ساتھ ایک طلاق دیدی ہے،تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے،جس کا حکم یہ ہے کہ دوران عدت سائل کو رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے،جبکہ اس کے بعدسائل کا ساڑو کے فون پر رجوع کرنے کاکہنے کے جواب میں"اب میں نہیں رکھوں گا"کے الفاظ کہنے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی اس سے رجوع کا اختیار ختم ہوا،چنانچہ سائل اگر دوران عدت اپنی بیوی کو"میں تم سے رجوع کرتاہوں"جیسے الفاظ زبانی طور پر کہہ دے یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرلے،تو یہ رجوع درست ہوکر میاں بیوی کانکاح حسب سابق برقرار رہے گا،بصورت دیگر شوہر کا رجوع نہ کرنے کی صورت میں ایام عدت گزر جانے کے بعدیہ طلاق طلاق بائن ہوکر میاں و بیوی کانکاح ختم ہوجائے گا،جس کے بعد میاں و بیوی کا باہمی رضامندی سے ساتھ رہنے کےلئے باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب وقبول کرتے ہوئے نکاح کرنالازم ہوگا،بہر دو (2)صورت آئندہ کے لئے شوہر کوفقط دو(2)طلاقوں کااختیار ہوگا،اس لئے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کما فی الھندیۃ : واذاطلق الرجل امراتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا رضیت بذلک او لم ترض کذا فی الھدایۃ الخ ( ج 1 صـ 470 کتاب الطلاق ط : ماجدیۃ ) ۔
وفیھا ایضا : ( فالسنی ) ان یراجعھا بالقول و یشھد علی رجعتھا شاھدین و یعلمھا بذلک فاذا راجعھا بالقول نحو ان یقولھا : راجعتک او راجعت امراتی ولم یشھد علی ذلک او اشھد و لم یعلمھا بذلک فھو یدعی مخالف للسنۃ و الرجعۃ صحیحۃ و ان راجعھا بالفعل مثل ان یطاھا او یقبلھا بشھوۃ او ینظر الی فرجھا بشھوۃ فانہ یصیر مراجعا عندنا الا انہ یکرہ لہ ذلک و یستحب ان یراجعھا بعد ذلک بالاشھاد الخ ( ج 1 صـ 467 کتاب الطلاق الباب السادس فی الرجعۃ ط : ماجدیۃ ) واللہ اعلم