السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ ہمارے ہاں اکثر موٹھ، جوار ،باجرہ، جانبہ اور گندم وغیرہ کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں، کبھی کسان حضرات اپنی مذکورہ فصلیں پکنے سے پہلے ہی بیچ دیتے ہیں۔ کبھی پکنے کے قریب اور بعض اوقات خود کٹائی کر کے غلہ و اناج وغیرہ نکال کر یعنی تھریشر لگوا کر خوب صاف ستھرا کر کے۔ بعدہ بوری وغیرہ میں ڈال کر اپنے غلے کو بیچ دیتے ہیں۔ بھوسہ عموما ًبعد میں ہی بیچ دیا جاتا ہے، البتہ کبھی کبھار بھوسہ فصل بیچنے سے پہلے بھی فروخت کر دیا جاتا ہے۔ ہمارا مسئلہ بالخصوص موٹھ اور بالعموم گندم جوار باجرہ اور جانبہ وغیرہ کے بھوسے کے متعلق ہے جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
ہمارے ہاں عموماً گندم کا بھوسہ اسی طرح موٹھ کے پتے جو کہ موٹھ کا بھوسہ ہی ہے (موٹھ کو تھریشر لگوانے کے بعد بھوسہ کی طرح بن جایا کرتی ہے جس کو ہماری مادری زبان بلوچی میں کئی کہا جاتا ہے اور یہ لفظ صرف موٹھ کے بھوسے کے لیے مستعمل ہے ) اور جوار باجرہ وغیرہ کا بھوسہ ان فصلوں کی کٹائی و صفائی کے بعد یعنی تھریشر مشین لگوا کر الگ سے بیچا جاتا ہے۔ یہ صورت شرعی طور پر درست ہے یا نہیں ؟ البتہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ موٹھ، گندم جوار، باجرہ اور جانبہ وغیرہ کی فصل ابھی پکی ہوئی نہیں ہوتی ہے یا پکنے کے قریب ہوتی ہے یا پک چکی ہوتی ہے ، ایسے میں بعض گاہک آجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ آپ کی جو فصل کھڑی ہے نا (جو ابھی پکی ہوئی نہیں ہے مثلاً یا پکنے کے قریب ہے یا پک چکی ہے یعنی موٹھ گندم جوار اور باجرہ وغیرہ چاہے جو بھی ہے۔ ابھی تو یہ فصل تیار نہیں ہے ٹھیک ہے لیکن جب تیار ہوگی پھر اس کی کٹائی ہوگی اور کٹائی کے بعد تھریشر لگوائی جائے گی تو اس کے بعد اس (یعنی موٹھ گندم جوار اور باجرہ چاہے جونسی بھی فصل ہے ان میں سے بالخصوص موٹھ ) کا بھوسہ (کٹی و دیگر ) مجھے ابھی سے اتنے پیسوں کے عوض فروخت کر دیجئے ( واضح رہے کہ فصل کی کٹائی ابھی تک نہیں ہوئی ہے اور بائع و مشتری بیع کر رہے ہیں، اب جبکہ ایجاب ہو چکا ہے تو ) زمین دار جوابا کہتا ہے ٹھیک ہے آپ کو فروخت کر دیا ہے ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا موٹھ گندم جوار اور باجرہ وغیرہ کا بھوسہ اس حال میں بیچنا جبکہ فصل ابھی کھڑی ہو ( چاہے فصل ابھی تک پکی نہیں ہو یا پک چکی ہو یا بچنے کے قریب ہو) کٹائی سے پہلے مذکور حالت میں فروخت کرنا شرعاً درست ہے؟ نیز کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ فصل کی کٹائی کر کے اس کو چٹیل میدان میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ دھوپ لگنے سے فصل ( مثلا موٹھ گندم جوار اور باجرہ چاہے جو بھی ہو بالخصوص موٹھ کی فصل ) خوب سوکھ جائے اور پھر تھریشر وغیرہ کے ذریعے سے صاف کیا جائے اب اس دوران جبکہ فصل کی کٹائی ہو چکی ہے اور وہ سکھانے کے لیے زمین پر پڑی ہے ) گاہک آجاتے ہیں اور سکھانے کی غرض سے میدان پر پڑئی ہوئی موٹھ کی فصل کو دیکھتے ہیں اور فصل کے مالک سے کہتے ہیں حضور آپ کی یہ جو فصل پڑی ہوئی ہے۔ کچھ ہی دنوں میں اللہ تعالی کے فضل سے سوکھ جائے گی پھر آپ تھریشر لگوائیں گے، جو نہی آپ تھریشر مشین لگوائیں گے تو اس فصل ( یعنی موٹھ ، گندم ، جوار اور باجرہ چاہے جو بھی ہے بالخصوص موٹھ ) کا بھوسہ میرا ہے یعنی مجھے ابھی سے اتنے پیسوں کے عوض بیچ دو آگے سے زمیندار کہتا ہے کہ ٹھیک ہے۔ کیا شرعاً یہ درست ہے ؟ اور بعض اوقات گاہک یہ کہتے ہیں (اس وقت کہتے ہیں جبکہ فصل با لخصوص موٹھ اور بالعموم دیگر کما ذکر فی السوال ابھی تک پکی نہیں ہوتی ہے یا پکنے کے قریب ہوتی ہے یاپکی ہوتی ہے یا پھر فصل کی کٹائی ہو چکی ہوتی ہے اور صرف سکھانے کے لیے زمین پر پڑی ہوئی ہے فقط تھریشر لگا کر صاف ستھرا کرنا باقی ہے ) کہ تھریشر لگوانے کے بعد مجھے ہی دو یعنی یہ وعدہ کرو کہ مذکورہ فصلوں، جن کا ذکر ہوچکا، کا بھوسہ بعد لگوانے تھریشر کے مجھے ہی فروخت کرو گے بعوض اتنے پیسوں کے ۔تو وہ ( یعنی زمیندار) آگے سے کہتا ہے کہ ٹھیک ہے ۔ شرعا ًجملہ صورتوں کا حکم واضح کریں۔ جزاکم اللہ خیراً
مسئولہ تمام صورتوں میں بھوسہ الگ ہونے اور تھریشر سے قبل فقط وعدہ بیع کرنے میں تو شرعاً کوئی حرج نہیں، البتہ بھوسہ الگ ہونے سے قبل بھوسے کی باقاعدہ فروختگی مبیع کے معدوم و مجہول ہونے کی وجہ سے شرعا ًباطل ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (المادة 5 20) : بيع المعدوم باطل فيبطل بيع ثمرة لم تبرز أصلا. المعدوم إما أن يكون معدوما حقيقة أو معدوما عرفا والمعدوم عرفا هو المتصل اتصالا خلقيا بغيره وبيع المعدوم سواء أكان حقيقة أم عرفا باطل (انظر شرح المادة 97 1) (إلی قوله) وكذلك بيع التبن وهو في السنبل قبل التذرية باطل؛ لأن التبن لا يكون من السنبل إلا بعد الدراس فبيعه قبل ذلك بيع للمعدوم اھ (1/ 181)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1