حضرت مجھے معلوم ہے کہ میں گاڑی خریدنا چاہتا ہوں، نقد پر خریدنے کی ابھی گنجائش نہیں ہے، اگر ایک گاڑی 25 لاکھ کی ہے اور کوئی مجھے خرید کر 28 لاکھ کی قسطوں میں دیتا ہے اور شرائط بھی طے کرلیتا ہے،پہلے سے طے کرلیا جائے گا کہ معاملہ قسطوں پر ہوگا، ہر قسط کی مالیت طے کرلی جائے گی، کتنی اقساط ہوں گی یہ بھی طے کرلیا جائے گا کہ اقساط میں تاخیر کی وجہ سے جرمانہ نہیں لیا جائے گا، کیا ان شرائط میں یہ سودا سود سے پاک ہوگا یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ بائع کے پاس پہلے سے موجود گاڑی یا اگر نہ ہو تو خرید کر قبضہ کرلینے کے بعد سائل کو قسطوں پر بیچے تو مندرجہ ذیل شرائط کی پابندی کرتے ہوئے معاملہ کرنا شرعاً جائز ہے، سود کے زمرے میں نہیں آئے گا۔
شرائط یہ ہیں:
(1)مجلسِ عقد میں یہ طے کرلیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہوگا۔
(2) ہر قسط کی مالیت بھی طے کرلی جائے۔
(3) یہ بھی طے کرلیا جائے کہ کل کتنی قسطیں ہوں گی۔
(4) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ بھی مشروط نہ ہو۔
مذکور بالا شرائط کی پابندی کے ساتھ ادھار گاڑی مہنگی خریدنا شرعاً جائز ہے۔
کما قال اللہ تعالی : یا ایہا الذین آمنوا لاتاکلوا الربا اضعافا مضاعفة و اتقوا اللہ لعلکم تفلحون ( آل عمران: 130 الایة)
و فی الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ
و فی الشامیة : أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر و عن الخلاصة و في الذخيرة و إن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (الیٰ قوله) ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة و هو ربا و إلا فلا بأس به في المنح ملخصا و تعقبه الحموي بأن ما كان ربا لا يظهر فيه فرق بين الديانة و القضاء على أنه لا حاجة إلى التوفيق بعد الفتوى على ما تقدم أي من أنه يباح اھ (5 /165)۔
و فی شرح المجلة : البیع مع تاجیل الثمن وتقسیطه صحیح یلزم ان تکون المدة معلومة فی البیع بالتاجیل والتقسیط اھ (50)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1