سلام کے بعد عرض ہے میں ایک کمپنی میں اس معاہدے پر جوائن کیا تھا کہ کمپنی میری سیلری بڑھائے گی ساتھ فیملی ویزہ دے گی اور ہر مہینے کمیشن ہوگا کمپنی نے ان میں سے کبھی کچھ پورا نہیں کیا ، میں نے اپنے پیسے پر ویزہ لگوایا اس پر ذلیل کیا کہ تم نے کیوں کیا اس طرح ایک بار سیلری کاٹ کے ایک استعمال شده موبائل دیا ،پھر وعدہ کیا موبائل کا بل بھریں گے ایک روپیہ نا بھرا گیا ،اس طرح جب سوچتا کہ سیلری بڑھانے کا کہوں سال کے اختتام میں وہ پہلے شروع ہو جائے کہ سیلز نہیں اور زیادہ ہو تو کہنا شروع کردے نفع نہیں آخر چار سال کے بعد میں نے یہ حل نکالا کے کمپنی جو قیمت دے اس سے زیادہ دے کر جو بیچ کا پیسہ اپنے جیب میں ڈالا جس سے کمپنی نے جو قیمت رکھی اتنا دیا باقی اپنے جیب میں ڈالا، اب یہ رقم میرے لیے حرام ہے گاہک میرے بنائے ہوئے ہیں کمپنی کے نہیں اور اگر حرام ہے تو ان کے لیے کیا حکم ہے وہ دو موبائل ایک استعمال شدہ ایک جوڑا کپڑوں کا کافی بار بریانی پانچ یا چھ بار ادھار لیے وہ مدد کہتے ہیں مجھ پر اپنے ماں باپ پھر اپنی فیملی سب کی بہن بھائی سب کی ذمے داری ہے کبھی کسی دوست کو ضرورت ہو میں کبھی انکار نہیں کرتا چاہے میرے جیب میں کچھ بھی نا ہو وہ پیسہ زیادہ تر 50 % اس پر خرچ ہوتا کسی کی مدد میں۔
کمپنی نے جب تقرری (جو ائننگ) کے وقت سائل سے تنخواہ بڑھانے اور دیگر مدات میں سہولیات دینے کا وعدہ کیا تھا تو کمپنی انتظامیہ کے ذمہ اس وعدہ کی پاسداری شرعا لازم تھی، تاہم ادارہ اگر اپنے وعدہ کی پاسداری نہیں کرتا تو سائل کے لیے سوال میں مذکور طریقہ کار کے ذریعہ بطور تلافی اضافی رقم وصول کر ناشر عا جائز نہیں، جس سے اسے احتراز لازم ہے۔
لما في التنزيل العزيز {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (2) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ } [الصف: 2، 3]
و في صحيح البخاري: وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم» اھ (3/ 92)
وفيه أيضاً : صحيح البخاري: 34 - حدثنا قبيصة بن عقبة، قال: حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر " تابعه شعبة، عن الأعمش اھ (1/ 16)
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889) واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1