ایک شخص نے مجھ سے 2500 روپے مانگے ، وہ مجھے کہتا ہے کہ 5 مہینے کےبعد میری گندم کی کٹائی ہوگی تو میں آپکو 2500 روپے کے عوض ڈھائی من گندم دونگا ، جبکہ میری دی گئی رقم ڈھائی من گندم انتہائی کم ہے ، اس گندم کو بیچنے نہیں بلکہ میں اپنے کھا نے کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہوں ، کیا یہ جائز ہے کہ نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں رقم دیتے وقت اگر فریقین نے باہمی رضا مندی سے اس کی واپسی کے لئے فصل کی کٹائی کے بعد ڈھائی من گندم پر اتفاق کیا ہو ، تو فقہاء کی اصطلاح میں اس معاملہ کو بیع ِ سلم کہا جاتا ے ، جس میں عام طور پر بطورِ ادھار خریدی جانے والی چیز کی قیمت مارکیٹ ریٹ سے کم طے کی جاتی ہے ، لہذا یہ معاملہ شرعًاً جائز اور درست ہے اور سائل کے لئے یہ گندم اپنے استعمال میں لانا بلا شبہ جائز ہے ۔
قال الله تعالى : يا أيها الذين آمنوا إذ ا تداينتم بدین إلى أجل مسمى فاكتبوه ( سورة البقرة ،الآية :282) -
و في المستدرك على الصحيحين : عن ابن عباس رضي الله عنه قال أشهد أن السلف المضمون إلى أجل مسمى قد أحل الله في الكتاب و أذن فيه ثم قرأ هذه الآية (كتاب التفسير ، ج ٤ ، ص 153 ، رقم : 1367، ط : دار الرسالة العالمية ) -
و في صحيح البخاري : عن ابن عباس رضي الله عنه قال قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة والناس يسلفون في الثمر ، العام و العامين (إلى قوله) فقال من سلف في تمر فليسلف في كيل معلوم و وزن معلوم . (كتاب السلم ، باب السلم في كيل معلوم ، ص 633، رقم : 2239، ط : مؤسسة الرسالة ) -
و في بدائع الصنائع : ( و منها ) قبض رأس المال في بيع الدين بالعين و هو السلم الخ (كتاب البيوع ، ج ۷، ص۸۷، ط : دار الحديث ) -
و فيها أيضا : إذا قال المسلم إليه بعت منك كذا و ذكر شرائط السلم فقال رب السلم قبلت ( فقد تمت الركن ) ( إلى قوله ) أن السلم بيع فينعقد بلفظ البيع و الدليل على أنه بیع ما روي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما نهى عن بيع ما ليس عند الإنسان و رخص في السلم الخ ( كتاب البيوع ، ج ۷ ، ص 88 ، ط : دار الحديث ) -
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1