السلام علیکم
ایک حدیث میں ہے کہ جب خریدار اور بیچنے والا آپس میں لین دین کرتے ہیں تو کسی تیسرے شخص کو مداخلت نہیں کرنی چاہیئے۔ (بخاری :2150) اور خریداروں کو ان کی خریداری منسوخ کرنے کی ترغیب نہ دیں تاکہ وہ خود (اپنا سامان) بیچ دیں۔
میں آن لائن ای کامرس کی دنیا سے اس کا تعلق پوچھنا چاہتا تھا، ایمازون جیسی ای کامرس ویب سائٹس، ایک صارف کی طرف سے کام کرتی ہے جو کسی پروڈکٹ کی تلاش کرتی ہے جیسا کہ "ٹی شرٹس" تلاش کرنے پر بہت سے مختلف فروخت کنندگان/اسٹوروں کی ٹی شرٹس گاہک کو دکھائی جاتی ہے، جب گاہک کسی ایک پروڈکٹ پر کلک کرتا ہے،تو اسے اس بیچنے والے کے مخصوص پروڈکٹ پیج پر بھیجا جاتا ہے جس میں اس کی ٹی شرٹ کی اضافی تصاویر اور استعمال وغیرہ ہوتے ہیں، اس پروڈکٹ کےپیج کے نیچے ایک سیکشن ہے ,جہاں پلیٹ فارم (ایمازون) دوسرے ٹی شرٹ بیچنے والوں کو اس کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے مصنوعات کی تشہیر کریں اور کسٹمر کو اپنی شرٹ دکھائے،جس میں کسٹمر اپنا خیال بدل کر ایمازون کی بجائے دوسرے کمپنیوں کی مصنوعات خریدسکتا ہے، میں یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا اس سیکشن میں اشتہاری پروڈکٹ تیسرے شخص کی مداخلت کے زمرے میں آتی ہے؟ یہاں کی تشہیر قانونی ہے اور پلیٹ فارم کی طرف سے اس کی اجازت ہے کیونکہ یہ جگہ خاص طور پر صارف کو خریدنے کا فیصلہ کرنے سے پہلے دوسری مصنوعات دکھانے کے لئے ہے۔ جزاک اللہ۔
"ایمازون " حسی مارکیٹ کی طرح لین دین کا ایک آنلائن مارکیٹ اور پلیٹ فارم ہے جس میں بیک وقت کسٹمر کو کسی مارکیٹ اور دکان میں موجود اشیاء کی طرح مختلف چیزوں اور پراڈکٹ کی تصاویر دیکھائی دیتی ہیں ،جس میں سے صارف اور کسٹمر اپنی مرضی سے کوئی چیز منتخب کرکے خرید سکتا ہے -
جبکہ سوال میں جس حدیثِ مبارک کا حوالہ دیا گیا ہے ،اس میں خریدار اور فروخت کنندہ کے درمیان مداخلت کرنے کی جو ممانعت وارد ہوئی ہے ، وہ محدثین کرام ۔رحمہم اللہ ۔ کی تشریحات کے مطابق اس صورت میں ہے جب متعاقدین بات چیت اور بھاؤ تاؤ کرکےکسی چیز کی خرید و فروخت پر آمادہ ہوچکے ہوں ,تو ایسی صورت میں کسی تیسرے شخص کا اس معاملے میں فریقین کی رضامندی کے بغیر مداخلت کرنا احادیثِ مبارکہ کی رو سے مکروہ عمل ہے ،لیکن اگر یہ نوعیت نہ ہو تو پھر یہ عمل مکروہ نہ ہوگا ،چنانچہ مختلف کمپنیوں کی طرف سے ایمازون پر اپنی پراڈکٹ کی تصاویر لگانے والوں کو چونکہ اس بات کاعلم ہوتا ہے کہ کسٹمر کا ہمارے "پیج" پر آنے کے باوجود انہیں اشتہارات کے ذریعےدیگر مختلف کمپنیوں کے پراڈکٹس دیکھائی جائینگی ، تو یہ ان کمپنیوں کی طرف سے دلالۃً رضامندی شمار ہوگی ، نیز "ایمازون" کی حیثیث کسی ایسے "سپر اسٹور" کی طرح ہے جس میں مختلف کمپنیوں کے پراڈکٹ رکھے ہوئے ہوں جس میں کسٹمر کو اپنی مرضی سے کسی بھی پراڈکٹ کے منتخب کرنے کا اختیار حاصل ہو ، لہذا سوال میں جو صورت ذکر کی گئی ہے ،درجِ بالا تفصیل کے مطابق وہ مکروہ اور ممنوع نہ ہوگی۔
فی الموسوعة الفقهية الكويتية : الْمُرَادُ مِنَ السَّوْمِ عَلَى سَوْمِ الْغَيْرِ أَنْ يَتَّفِقَ صَاحِبُ السِّلْعَةِ وَ الرَّاغِبُ فِيهَا عَلَى الْبَيْعِ ، وَ لَمْ يَعْقِدَاهُ ، فَيَقُول آخَرُ لِصَاحِبِ السِّلْعَةِ : أَنَا أَشْتَرِيهَا بِأَكْثَرَ ، أَوْ يَقُول لِلرَّاغِبِ فِي السِّلْعَةِ : أَنَا أَبِيعُكَ خَيْرًا مِنْهَا بِأَرْخَصَ ، فَالسَّوْمُ عَلَى سَوْمِ الْغَيْرِ يَخْتَلِفُ عَنِ الْمُزَايَدَةِ أَيْضًا فِي وُقُوعِهِ بَعْدَ الرُّكُونِ خِلاَفًا لِلْمُزَايَدَةِ۔(83/37)۔
و فی فقہ البیوع : و من البيوع المكروهة ما وقع فيه السُّومُ على سوم غيره . و قد وقع عنه النهي في الحديث الصحيح عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه : "أنّ رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : "لايسم المسلمُ على سَوم أخيه . " و فسره ابن الهمام رحمه الله تعالى بقوله : "هو أن يتراضيا بثمن ، و يقع الركون به ، فيجيئ آخر فيدفع للمالك أكثر ، أو مثله غير أنه رجل وجيه ، فيبيعه منه لوجاهته و الحاصل أنه إذا تبين تراضى العاقدين الأولين و رکون أحدهما إلى الآخر، فلا خلاف في عدم جواز المساومة من قبل غيرهما . أما إذا لم يوجد ما يدل على الرضا و لا على عدمه ، فهو جائز۔(2/986)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1