بخدمت جناب مفتی صاحب
میں، میاں محمد عاصم ظاہر ولد میاں ظاہر گل , آپ سے طلاق / خلع کے مسئلے اور اس میں رجوع کی گنجائش کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔
میں نے ماہ نومبر 2021 میں اپنی بیوی فاطمہ بنت لیاقت علی شاہ کو گھریلو تکرار کے بعد اسکے اصرار پر ایک بار یہ الفاظ کہے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔ اسکے بعد ایک مہینے کے اندر ہم میاں بیوی نے آپس میں رجوع کیا ۔
23 جنوری2022 کو میری بیوی نے مجھے سے خلع مانگی اورمجھ سے طلاق کے الفاظ ادا کرنے کا اصرار کیا , میری بیوی کے بار بار اصرار اور اسکی ضد پر میں نے دو دفعہ یہ الفاظ ادا کیے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"۔
سوال اب یہ ہے کہ کیا اب ہمارا نکاح برقرار ہے یا نہیں ؟ اور کیا اس میں رجوع کی کوئی گنجائش باقی ہے؟
برائے مہربانی اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
شکریہ
صورتِ مسئولہ میں سائل نے مذکور جملہ" میں تمہیں طلاق دیتاہوں" تین بار کہد یاہے،جس کی وجہ سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے-