السلام علیکم ! میں نے اپنی زوجہ کو بارہا منع کیا تھا کہ سوشل میڈیا واٹس ایپ وغیرہ پے شکایتی اسٹیٹس مت لگایا کرو ڈائریکٹ میرے ساتھ بات کرو آپس کا مسئلہ ہے، میں نے شرط رکھ دی کہ اگر آئندہ تم نے یہ کام کیا تو میری طرف سے تمہیں ایک طلاق ہوجائیگی، بہت عرصہ گزر چکا تھا وہ بھی بھول چکی تھی ایک ہفتہ پہلے ہماری خوب بحث ،لڑائی ہوئی اور اس نے پھر سے اسٹیٹس لگائی، اور بعد میں مجھے ،اور اسے یاد آگئی جو شرط رکھی تھی، اب میں پردیس میں ہوں پوری طور پر جا ن
نہیں سکتا ہوں ، اس کے لئے بھی وقت درکار ہے ،برائے مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہمار نکاح کیسے بحال ہوسکتاہے،ایک اگست 2023کی بات ہے اور 5 اگست کو بیوی کو حیض بھی آگیا۔
سائل نے جب اپنی بیوی مذکور الفاظ "اگر آئندہ تم نے یہ کا م کیا تو میری طرف سے تمہیں ایک طلاقِ ہوجائیگی "کہے تو اس سے ایک طلاق رجعی معلق ہوچکی تھی ، چنانچہ اسکے بعد سائل کی بیوی نے شرط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جب اسٹیٹس لگادیےتو اس سے سائل کی بیوی پرمعلق ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی ہے ، جس کے بعد سائل کو عدّت کے اندر (تین حیض پورے ہونے سے قبل) رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے ، لیکن اس کیلئے بیوی کے پاس جانا یا بیوی کو اپنے پاس بلا نا کوئی لازم اور ضروری نہیں ،بلکہ سائل اگر بذریعہ فون یاویسے ہی زبانی طور پریہ کہہ دے کہ میں نے تم سے (یااپنی بیوی سے ) رجوع کرلیا ہے تو اس سے بھی رجوع ہوجائے گا، اور دونوں کا نکاح حسب سابق بر قرار رہے گا، تاہم بہتر یہ ہے کہ اس رجوع پر دو افراد کو گواہ بھی بنائے تاکہ بعد میں مسائل اور پیچیدگیوں سے بچا جاسکے ۔
کمافی الھندیۃ : وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته:إن دخلت الدار فأنت طالق(1/420)۔
وفیھا ایضاً: الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.(1/468)۔