آج کل جو کمرشل بلڈنگ اور شاپنگ مال وغیرہ میں لوگ دکان یا اس میں کوئی حصہ خریدتے ہیں تو کنسٹرکشن کمپنی بہت سارے ایسے شرائط لگاتی ہیں جو شرعاً شروط لایقتضیھا العقد میں شامل ہوتے ہیں۔ مثلا یہ شرط لگاتے ہیں کہ آپ نے جو حصہ خریدا ہے اس کو اگر آپ آگے بیچیں گے تو ہماری اجازت کے بغیر نہیں بیچیں گے یا کسی کو کرایہ پر دینا ہے تو ہماری اجازت کے بغیر آپ اس کو کسی اور بندے کو کرائے پر نہیں دے سکتے یا مثلا کمپنی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دوسری منزل میں صرف ہوٹل یا ریسٹورنٹ ہوں گے اور آپ کی دکان بھی دوسری منزل میں ہے تو اگر آپ خود دکان چلانا چاہتے ہیں تو آپ نے بھی اس میں صرف ریسٹورنٹ یا ہوٹل ہی کھولنا ہوگا کپڑے یا کاسمیٹکس وغیرہ کی دکان نہ خود کھول سکتے ہیں نہ کسی دوسرے کو اس مقصد کیلئے کرایہ پر دے سکتے ہیں۔اسی طرح آپ اس دکان میں خود سے کوئی تعمیری تبدیلی بھی نہیں کر سکتے ۔
انتظامی نوعیت کے اسی طرح کچھ اور شرائط بھی ہوتے ہیں جو بطورِ حفاظت کمپنی والے لگاتے ہیں ۔
کنسٹرکشن کمپنیز اور خریداروں کے درمیان اس طرح کے شرائط پچھلے ایک دو دہائیوں سے معروف ہیں کیا عرف کی وجہ سے اس طرح شرائط کی بنیاد پر دکان فلیٹ یا اس کے کسی حصے کی خریداری درست ہے ؟
مسئولہ صورت میں کنسٹرکشن کمپنی کی طرف سےعمارت کی حفاظت یا نظم وضبط برقرار رکھنے کے لئے کمرشل بلڈنگ یا شاپنگ مال وغیرہ میں لگائی جانے والی شرائط اگرصلبِ عقد میں نہ ہوں،بلکہ انتظامی طور پرفروختگی کے وقت مذکورنوعیت کی شرائط عائد کی جاتی ہوں،تو ان شرائط کی وجہ سےخریدوفروخت کا معاملہ فاسد نہ ہوگا،چنانچہ باہمی رضامندی سےان شرائط پرکسی بھی شخص کیلئے ان کے ساتھ معاملہ کرنے میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔
کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 87) أو (جرى العرف به كبيع نعل) أي صرم سماه باسم ما يئول عيني (على أن يحذوه) البائع (ويشركه) أي يضع عليه الشراك وهو السير ومثله تسمير القبقاب (استحسانا للتعامل بلا نكير).
(قوله استحسانا للتعامل) أي يصح البيع ويلزم للشرط استحسانا للتعامل. والقياس فساده؛ لأن فيه نفعا لأحدهما وصار كصبغ الثوب، مقتضى القياس منعه؛ لأنه إجارة عقدت على استهلاك عين الصبغ مع المنفعة ولكن جوز للتعامل ومثله إجارة الظئر، وللتعامل جوزنا الاستصناع مع أنه بيع المعدوم، ومن أنواعه شراء الصوف المنسوج على أن يجعله البائع قلنسوة، أو قلنسوة بشرط أن يجعل البائع لها بطانة من عنده، وتمامه في الفتح. وفي البزازية: اشترى ثوبا أو خفا خلقا على أن يرقعه البائع ويسلمه صح اهـ. ومثله في الخانية. قال في النهر: بخلاف خياطة الثوب لعدم التعارف اهـ.
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1