نچلی منزل اور فلیٹ کی بیع قبل القبض میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ نیز اگر قبضہ سے پہلے بناء کو عرصہ کے بغیر بیچا گیا تو صحیح ہوگا یا نہیں؟
اگر فلیٹ اور نچلی منزل تعمیر شدہ ہوں، تو قبل القبض وبعدہ اس کے بیچنے کے جواز میں کوئی فرق نہیں اور ایسی صورت میں زمین کے بغیر عمارت کا بیچنا بھی جائز ہے۔
في الفقه الإسلامي وأدلته: فلا ينعقد بيع المعدوم قبل وجوده وماله خطر العدم. (إلی قوله) ويستثنى بيع السلم والاستصناع وبيع الثمر على الشجر بعد ظهور بعضه في رأي بعض الحنفية. (5/ 16)۔
وفي تكملة فتح الملهم: قال أبوحنيفة وأبويوسف رحمهما الله يمتنع البيع قبل القبض في سائر المنقولات ويجوز في العقار الذي لا يخشى هلاكه اھ. (۱/ ۳۵۱)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1