میں نے اپنی بیوی کو ایک بار طلاق دی اور وہ اپنے گھر چلی گئی اور اب 5ماہ کا وقت گزر چکا ہے اور وہ ہم اب واپس رجوع کرنا چاہتے ہیں اس بارے میں بتائیں ۔
سائل نے اگر واقعۃً صريح الفاظ کیساتھ ایک ہی طلاق دی ہو تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، جسکے بعد سائل کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا لیکن اگر اس نے عدت میں رجوع نہ کیا ہو تو عدت گزرنے سے یہ طلاق بائن بن چکی ہے اوردونوں کانکاح ختم ہو چکا ہے، لہذا اب سائل کی بیوی اگر چاہے تو کسی دوسری جگہ عقد کرنے میں بھی آزادہو گی، اور سائل پر پورے مہر کی ادائیگی بھی لازم ہو گی، تاہم اگر وہ سائل کے ساتھ دوبارہ بیوی کی طرح رہنا چاہے تو اسکے لئے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ عقد نکاح لازم ہو گا ،البتہ اس نکاح کے بعد آئندہ سائل کے پاس فقط دو / ۲ طلاقوں کا اختیار ہو گا جب کبھی وہ دو / ۲ طلاقیں بھی دیدے گا تو سائل کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔
كما في الفقه الإسلامي وأدلته : أما الطلاق الرجعي: فهو الذي يملك الزوج بعده إعادة المطلقة إلى الزوجية من غير حاجة إلى عقد جديد ما دامت في العدة، ولو لم ترض. وذلك بعد الطلاق الأول والثاني غير البائن إذا تمت المراجعة قبل انقضاء العدة، فإذا انتهت العدة انقلب الطلاق الرجعي بائناً، فلا يملك الزوج إرجاع زوجته المطلقة إلا بعقد جديد اھ (9/6955)۔
وفی الشامیة: وینکح مبائنة بمادون الثلاث فی العدہ وبعدھا اھ (3/281)۔