السلام علیکم !
مفتی صاحب اگر کسی " ہاؤس سوسائٹی " میں پیشگی ادائیگی پر پلاٹ کی بکنگ کر لی جائے، بقایا پیسے قسطوں میں ادا کرنے ہیں ، جبکہ پلاٹ آپ کو ملا نہیں ہے، لیکن سوسائٹی ایک جگہ بلاک کی شکل میں متعین کرتی ہے کہ اس بلاک میں آپ کو پانچ (5) یا سات (7) و غیرہ کا ایک پلاٹ ملے گا ، تو اس صورت میں خریدار اس فائل پر نفع لے کر آگے دوسرے بندے کو فروخت کر سکتا ہے اور وہ آگے فروخت کرے؟، اور سوسائٹی کی طرف سے اس چیز کی اجازت بھی ہے ، کیا یہ حرام ہے یا حلال ؟
واضح ہو کہ فروخت ہونے والے پلاٹ کا مکمل طور پر جائے وقوع اور حدود اربعہ متعین ہوں، فقط فائل کی خرید و فروخت نہ کی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں اس کی خرید و فروخت شرعا جائز اور درست ہو گی ورنہ نہیں۔
كما في الهداية شرح البداية: قال وإن استصنع شيئا من ذلك بغير أجل جاز استحسانا للإجماع الثابت بالتعامل و في القياس لا يجوز لأنه بيع المعدوم والصحيح أنه يجوز بيعا (3/ 78)۔
و في فقه البيوع: فان بيع قطعة غير معينة من جملة القطاعات فلا يجوز عند الامام أبي حنيفة رحمه الله ويجوز عند صاحبيه. و الظاهر انه إن كان جهالة التعيين تقضى إلى المنازعة . فالأخذ بقولا لامام أبي حنيفة أولى وإن كان لم تكن مفضية إلى المنازعة. ف قول الصاحبين أولى بالأخذ ۱ھ (۱/377)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1