میں تعمیراتی بلاک کا کاروبار کرتا ہوں، میں ایک شخص سے ریتی خرید تاہوں، جس کی قیمت 21000 روپے فی ٹرک ہوتی ہے، اور ادھار یا نقد دونوں صورتوں میں یہی قیمت ہے، اور وہ میرے سیکورٹی گارڈ کو بھی 500 روپے براہِ راست کمیشن بھی دیتا ہے ، اب میرے پاس پیسے کی کمی ہے، اس لیے میں نے اپنے دوست سے بات کی کہ وہ مالک سے براہِ راست ریتی کا ٹرک خرید لے، اسی مجلس میں ریتی کا مالک اس بات پر راضی ہو گیا کہ وہ اسے وہی ٹرک 20000 نقد پر فروخت کرے اور وہ میرے سیکورٹی گارڈ کو کمیشن بھی نہیں دے گا، اب میرا وہ دوست وہی ٹرک مجھے 21000 ادھار پر فروخت کر رہا ہے، برائے مہربانی مجھے آگاہ فرمائیں کہ مذکور معاملہ جائز ہے ؟
سائل کا دوست اگر پہلے ریتی کا ٹرک خرید کر اس پر قبضہ کرنے کے بعد سائل کو ادھار ( قسطوں) پر فروخت کرے، اور قیمت کی ادائیگی کے لیے وقت بھی طے کرے، تو اس طرح نقد کے مقابلے میں ادھار پر مہنگے دام ریتی خرید نا بھی جائز اور درست ہے۔
ففي سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة» و في الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح» والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما اھ (3/ 525)۔
و في بحوث في قضايا فقهية معاصرة: أما الأئمة الأربعة وجمهور الفقهاء والمحدثون، فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد، بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم، وبثمن متفق عيه عند العقد اھ (ص: 12) واللہ اعلم بالصواب
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1