" اے " اور "بی" نے (15) پندرہ سال پہلے ایک (3) تین منزلہ مکان خرید کیا ، (8) آٹھ لاکھ روپے میں، دونوں کا حصہ (%۵۰) پچاس پچاس پر سنٹ تھا ، طے یہ پایا کہ پہلا فلور " اے " کا ہے ، دوسرافلور " بی " کا ہے، اور تیسر افلور (%۵۰) پچاس پچاس پرسنٹ ہو گا ، دس سال بعد جب مکان کی قیمت (27) ستائیس لاکھ روپے تھی ، " اس نے دوسرا فلور "بی" سے (9) نولاکھ روپے کا لے لیا، مگر ادائیگی کے لئے ٹائم مانگا، اور کہا کہ جب تک مکمل ادائیگی نہیں ہو گی ، وہ کرایہ دیتا ر ہے گا، (2) دو سال میں اس نے (6) چھ لاکھ روپے ادا کیے ، اب جب کہ (2) دو سال پہلے "بی" کا انتقال ہو چکا ہے ، "بی" کی بیوی بول رہی ہے کہ ایگریمنٹ کے پانچ سال بعد تک پیمنٹ پوری نہیں ہوئی، اس لئے اب وہ یہ ایگریمنٹ ختم کرتی ہے ، اور (6) چھ لاکھ روپے واپس " اے " کو دینا چاہتی ہے ، جبکہ " اے" اس بات پر راضی نہیں ہے ، " اے " اور "بی" کی بیویاں آپس میں بہنیں ہیں، قرآن اور سنت کے مطابق فتوی دیں جزاک اللہ نوٹ: اے دوسرے فلور پر مالکانہ قبضہ کر چکا ہے۔
شخص مذکور " اے " نے "بی" سے جو دو سر افلور اس شرط پر خرید ا تھا کہ جب تک مکمل ادائیگی نہ ہو گی ،اس وقت تک اسے کرایہ ادا کرتا رہے گا، اس شرط کی وجہ سے دونوں کے مابین عقد بیع فاسد ہو کر معاملہ واجب الفسخ تھا، لہذا اگر مبیع اسی حالت پر ہو تو "بی" کے ورثاء اور " اے " پر لازم ہے کہ اس عقد کو ختم کر دیں، اس کے بعد اگر دوبارہ عقد کرنا چاہیں تو نئے ایجاب و قبول کے ساتھ بیع کی شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے نیا عقد کر سکتے ہیں۔
ففي سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة» اھ (3/ 525)۔
و في مشكاة المصابيح: وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في صفقة واحدة. رواه في شرح السنة اھ (2/ 867)
وكما في الدر المختار: (وإذا قبض المشتري المبيع برضا) عبر ابن الكمال بإذن (بائعه صريحا أو دلالة) بأن قبضه في مجلس العقد بحضرته (في البيع الفاسد) (الى قوله) (ولم ينهه) البائع عنه ولم يكن فيه خيار شرط (ملكه) إلا في ثلاث (الى قوله ) (و) يجب (على كل واحد منهما فسخه قبل القبض) ويكون امتناعا عنه ابن الملك (أو بعده ما دام) المبيع بحاله جوهرة (في يد المشتري إعداما للفساد) ؛ لأنه معصية فيجب رفعها بحر اھ (5/ 88،تا 91)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ملكه) أي ملكا خبيثا حراما فلا يحل أكله ولا لبسه إلخ قهستاني. وأفاده أنه يملك عينه، وهو الصحيح المختار اھ (5/ 89)
و في فقه البيوع : وأما حكم البيع الفاسد عند الحنفية الذين يفرقون بينه وبين الباطل أن الفاسد من البيع يجب على المتعاقدين فسخه، ولكنه يفيد ملكا خبيثا بعد قبض المشترى المبيع، ويتفرع عليه امور آتية (إلى قوله) إن قبض المشترى المبيع، فانه يملكه ملكاً خبيثاً لا يجوز له الانتفاع به بالأكل أو الشرب أو اللبس أو التصرف فيه . إلا إذا عقده من جديد بازالة المفسد اھ ( ۲/ ۹۶۰)
و في شرح المجلة: إذا مات احد العاقدین لا یبطل حق الفسخ بموته، بل ینتقل إلی وارثه اھ (۳/ ۳۴۵)
و في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (وإن شرط تركها) أي الثمرة (على الشجرة) حتى تدرك (فسد) البيع لأنه شرط لا يقتضيه العقد وهو شغل ملك الغير أو لأنه صفقة في صفقة لأنه إجارة في البيع إن كانت للمنفعة حصة من الثمن أو إعارة في بيع إن لم تكن له حصة من الثمن اھ (2/ 17)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1