السلام علیکم!
مفتی صاحب مسئلہ یہ ہے کہ اگر آن لائن خریداری سے کمپنی کی طرف سے بھیجی جانے والی چیز اگر آڈر کے خلاف ہو ،رنگ میں اور کوالٹی میں بھی اور خرابی کا بھی شک ہونے پر چیز اپنے پاس ہی رکھ کر کمپنی والوں سے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کر لے ،اور بندہ کمپنی والوں کی رضامندی سے چیز پاس ہی رکھ لے، جب پیسے واپس ہوں، تو پتہ چلے کہ اور کوئی خرابی نہیں تھی ،چیز میں صرف رنگ کا فرق تھا، تو ایسی صورت میں پیسے بندہ استعمال کر سکتا ہے، اور چیز بھی استعمال میں لا سکتا ہے یا نہیں ؟برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
سوال میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کمپنی نے سائل کو مطلوبہ چیز اور اس کی قیمت دونوں کیسے واپس کر دی ہیں ؟ تاہم اگر سائل نے کسی قسم کی دھوکہ دہی سے مطلوبہ چیز اور رقم دونوں حاصل کرلی ہوں، تو ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں، لہذا سائل پر لازم ہے کہ وہ مطلوبہ چیز (اگر آڈر کے موافق نہ ہو) یا اس کی قیمت کمپنی کو واپس کر دے۔ اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اسکی مکمل وضاحت کر کے سوال دوبارہ ای میل کر دے اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
كما في الهداية شرح البداية: ومن رأى شيئا ثم اشتراه بعد مدة فإن كان على الصفة التي رآه فلا خيار له لأن العلم بأوصافه حاصل له بالرؤية السابقة وفواته يثبت الخيار إلا إذا كان لا يعلم مرئيه لعدم الرضا به وإن وجده متغيرا فله الخيار لأن تلك الرؤية لم تقع معلمة بأوصافه فكأنه لم يره اھ (3/ 35)-
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1