کیا قسطوں پر چیزیں ( ٹی وی، ایئر کنڈیشنز ) وغیرہ لینا جائز ہے ؟
کسی بھی جائز چیز کی قسطوں پر خرید و فروخت مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے ، شرائط یہ ہیں:
(1): مجلسِ عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ یہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہو گا۔
(۲) :ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے، یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل قسطیں کتنی ہونگی۔
(۳): کسی قسط کی تاخیر کیوجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ بھی مشروط نہ کیا جائے۔
و في المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1