کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ ایک آدمی نے دو مختلف موقعوں پر اپنی بیوی کو ایک ایک (واضح الفاظ میں) طلاق دے دی، اس کے بعد مختلف موقعوں پر یہ کہا کہ اگر تم گھر چھوڑ کے گئی تو تمہیں طلاق ،لیکن نیت صرف ڈرانے کی تھی لیکن اس کی بیوی نے کئی مرتبہ یہ حرکت کر لی، اب یہ فرمائیں کہ میری طلاق ہوگی یا نہیں ؟
مزید وضاحت: جی ہاں پہلی دونوں طلاقوں کے بعد ہفتہ دو ہفتہ کے اندر رجوع کرلیا تھا، اور پہلی دو میں ایک سال کا وقفہ تھا، لیکن پہلی دو طلاق دیتے وقت انتہائی غصہ میں تھا ایسی حالت ميری کبھی بھی نہیں ہوئی کہ منہ سے جھاگ نکل رہی ہو، اور چیزیں دیوار پر مار رہا ہوں , گویا کہ میں ہوش و حواس میں نہیں تھا اور اس کے ساتھ مجھ پر شاید کسی نے جادو بھی کر وایا ہوا ہےکیونکہ مجھے رات کو کوئی چڑیل جن وغیرہ تنگ بھی کرتے ہیں ،اب اس صورت میں کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ سائل نے دو طلاقوں کے بعد جب تیسری طلاق مشروط معلق کردی تھی جس کے بعد شرط پائی گئی ہے تو سائل کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، جبکہ سائل کی بیوی عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في الهداية :واذا اضافه الى شرط وقع عقيب الشرط مثل ان يقول لا مرأته ان دخلت الدار فانت طالق وهذابالاتفاق الخ (2/398)۔
وفیہ ایضاً:وان كان الطلاق ثلثا في الحرة أو ثنتين في الامة لم تحل له حتى تنكح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بہاثم یطلقھا او یموت عنھا اھ (2/399)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0