السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ میرا اپنی اہلیہ کے ساتھ جھگڑا ہوا، اور میں نے غصے میں آکر یہ کہہ دیا کہ " اگر تو میرے گھر میں رہی تو تجھے تین طلاق ہے" میرا یہ جملہ سنتے ہی میری اہلیہ اپنے میکے چلے گئی ، لیکن دو ہفتے بعد وہ واپس آگئی اور اب وہ میرے ساتھ ہے اور ہم کئی مرتبہ ہمبستری بھی کر چکے ہیں ، اب مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ کیا طلاق واقع ہوچکی ہے؟ اور اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو بتائیں کہ مجھے اب کیا کرنا چاہیئے ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں میرے اس سوال کا جواب عنایت فرمائیں ، عین نوازش ہوگی۔
سائل نے لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی اہلیہ سے مذکور الفاظ "اگر تو میرے گھر میں رہی تو تجھے تین طلاق ہے"کہے تو اس سے تعلیقِ طلاق منعقد ہوچکی تھی ، چنانچہ اس واقعہ کے دو ہفتے بعد جب سا ئل کی اہلیہ نے سائل کے گھر آکر رہنا شروع کیا تو اس سے سائل کی بیوی پر معلّق تینوں طلاقین واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والےتعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،اور اب تک تین طلاقوں کے بعد جتنا عرصہ میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ گزارا ہے اس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار بھی کرے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوج اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال اللہ تعالی: فَإنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ الآیۃ (آیتـ 230 سورۃ البقرۃ)
و فی اعلاء السنن: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ ﷺ ثلاث جدھن جد وھزلھن جد، النکاح والطلاق والرجعۃ (کتاب الطلاق ج 11 صـ 216 ط: دار الکتب العلمیۃ)
و فی الدر المختار: (و یقع بھا) أی بھذہ الألفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
و فی رد المحتار: تحت (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقا واطلقی ویامطلقۃ بالتشدید، و کذا المضارع إذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر اھ (کتاب الطلاق باب الصریح ج3 صـ 248 ط: سعید)
وفی الھندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق ولا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك والإضافة إلى سبب الملك كالتزوج الخ (کتاب الطلاق الباب الرابع ج 1 صـ 420 ط: ماجدیۃ)
و فی الھدایۃ: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا (إلی قولہ) ویزاد علی النص بالحدیث المشھور و ھو قولہ علیہ السلام لا تحل للأول حتی تذوق عُسیلۃ الآخر الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 2 صـ 409 ط: قدیمی)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0