السلام علیکم!
میرے خاوند نے بارہا مجھے کہا کہ ماں باپ کے گھرایک سے زیادہ دن لگائے یا فلان شخص سے بولی یا یہ کام کیا تو میری طرف سے طلاق ہے , لیکن کچھ وقت بعد میں راضی کرتی تھی تو وہ اجازت دے دیتا تھا کہ آئندہ کے لئے میں شرط ختم کرتا ہوں, تمہیں جانے کی اجازت ہے لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایسے طلاق ہو جاتی ہے ,میں اس کو راضی کرنے سے پہلے وہ کام نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ اجازت دےدیتا تھا تو میں وہ کام کرتی تھی , ایسا پانچ سے سات بار ہوچکا , لیکن میرے علم میں ابھی یہ بات آئی کہ ایسے طلاق ہو جاتی ہے تو برائے کرم رہنمائی فرمائیں کیا ایسے تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں کیونکہ ایسا تین سے زائد بار ہوچکاہے۔
واضح ہو کہ طلاق معلق کرنے کے بعد شوہر کے پاس اس تعلیق کو ختم کرنے کا اختیار باقی نہیں رہتا، بلکہ اس شرط کے خلاف کرنے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے، اس لئے سائلہ کو چاہیئے ، کہ اپنے شوہر کے ساتھ کسی قریبی دارالافتاء جاکر پوری صورت حال بیان کرکے حکم شرعی معلوم کرلے۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0