میرے ایک دوست نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنے بھائی کے گھر جاؤ تو طلاق ہو جائے گی , اب وہ کفارہ دینا چاہتا ہے تاکہ اس کی بیوی اپنے بھائی کے گھر جا سکے , اس کا کیا حل ہے ؟
سائل کے دوست نے سوال میں مذکور جملہ صرف ایک بار ہی بولا ہو تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق معلق ہوچکی ہے ، جبکہ طلاق معلق کرنے کے بعد اس کو ختم کرنے کا کوئی طریقہ یا کفارہ نہیں ہے ، لہذا سائل کے دوست کو چاہیئے کہ اپنی بیوی کو اس کے بھائی کے گھر لے جائے ،جس سے اسکی بیوی پر ایک طلاقِ معلق واقع ہوجائے گی ،اور سائل اسی دن یا عدت کے اندر اس سے رجوع کرلے ، اس کے بعد اگر وہ اپنے بھائی کے گھر جائے گی تو مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ،لیکن سائل نے اس سے پہلے اپنی بیوی کو کوئی طلاق نہ دی ہو تو اس کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا , لہذ ا آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے -
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0