کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو یہ کہا کہ اگر تو میری یونٹ گئی (جہاں میں کام کرتا ہوں) تو تجھے تین دفعہ طلاق ، کچھ عرصے بعد گھریلو جھگڑے پر میری بیوی یونٹ کی طرف چلی آئی، میں اس وقت یونٹ میں ہی تھا تو مجھے بلایا گیا اور بتایا گیا کہ آپ کی بیوی آپ کی شکایت لے کر آئی ہے اور آپ کو یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر بلارہے ہیں، کمانڈنگ آفیسر نے یہ کہا کہ بیٹا گھر کے معاملات یونٹ میں نہیں آنے چاہیئے، آپ اپنی بیوی کو ساتھ لو اور گھر کے معاملات حل کرو، میں یونٹ سے باہر آیا تو میری بیوی outer barrier سے باہر انتظار گاہ میں بیٹھی تھی، میں نے اسے ساتھ لیا اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے، راستے میں , میں نے اس سے کوئی بات نہیں کی نہ اس نے کوئی بات کی، اب میرے ذہن میں یہ تھا کہ یہ میری یونٹ تو پہنچ گئی ہے، لہٰذا اس کے بھائی کو میں نے کال کی اور اسے اطلاع دی کہ آپ کی بہن کو طلاق ہوچکی ہے، لہٰذا آپ اسے یہاں سے لے جاؤ، بہرحال ہم گھر پہنچ گئے تو میں نے اسے ایک بار کہا کہ آپ کو میں طلاق دیتا ہوں اور ساتھ ہی اپنے بھائی کو اطلاع دی کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی ہے، لہٰذا یہ سامان اٹھانے آئیں تو اٹھانے دینا، ظہر کی نماز پڑھنے میں اکرم مسجد بلدیہ ٹاؤن گیا اس کو ساری بات بتائی ، شام کو وہ ہمارے گھر تشریف لے آئے انہوں نے میری بیوی سے سارا واقعہ سنا اور پھر مجھ سے یونٹ کی حدود کے بارے میں پوچھا تو میں نے اسے یونٹ کی حدود بتائیں تو انہوں نے کہا کہ آپ کی بیوی تو یونٹ میں داخل ہی نہیں ہوئی تو اس کو طلاق کیسے ہوئی ، ہاں! البتہ آپ نے گھر میں آکر جو طلاق دی وہ شمار ہوگی اور جو آپ نے اپنے بھائی کو یا اس کے بھائی کو اطلاع دی وہ شمار نہیں ہوگی، کیونکہ آپ نے تو اس وقت یہ سمجھا تھا کہ یونٹ پہنچ گئ ہے تو آپ نے اس کے بھائی کو اطلاع کردی، بہرحال انہوں نے ہمیں رجوع کا مشورہ دیا اور ہم نے رجوع بھی کرلیا، دو ہفتے بعد میری بیوی نے کہا کہ مجھے اس مفتی پر اعتماد نہیں، لہٰذا میری یونٹ کے اندر کے خطیب صاحب سے بات کراؤ , میں خود ان سے یونٹ کی حدود معلوم کروں گی، میں نے خطیب صاحب مولانا شفیع صاحب سے (جو موجودہ خطیب ہیں) بات کرائی تقریباً فون پر 38 منٹ بات کرائی، انہوں نے ان سے بار بار معلوم کیا کہ آپ کون سے راستے سے گئی اور کہاں تک گئی تھی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں outer barrier سے بھی باہر بیٹھی تھی جہاں عام پبلک کو رسائی حاصل ہے اور وہاں سے کارڈ لے کر یونٹ کے اندر جاتے ہیں، خطیب صاحب نے میری بیوی کو بھی یہی کہا کہ چونکہ شرط یونٹ کی تھی لہٰذا آپ لوگوں کی بچت ہوگئی، آئندہ احتیاط کریں، پھر میں نے سابقہ خطیب مولانا محمد حنیف صاحب سے بھی ان کی بات کرائی تو انہوں نے بھی انکو وہی جواب دیا، رہی بات اس کے بھائی کو اطلاع دینے کی تو چونکہ وہ اس وقت اس کو بھی معلوم نہیں تھا کہ یونٹ میں یہ کہاں تک گئی ہے، اس لئے اس نے آپ کے بھائی کو اطلاع دے دی اور آپ جب یونٹ میں داخل ہی نہیں ہوئی تو وہ اطلاع بھی غلط تھی، لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ آپ قرآن و حدیث کی روشنی اس پر فتوی جاری فرمائیں، اللہ ہم سب سے راضی ہو، آمین۔
(نوٹ) سوال میں مذکور آؤٹر بیرئیر یونٹ کی حدود میں شال نہیں ہے، بلکہ وہ عام پبلک کی جگہ ہے، جہاں کوئی بھی کسی بھی وقت آسکتا ہے ، جیسے کسی پولیس اسٹیشن وغیرہ کے گیٹ سے باہر بیرئیر لگے ہوتے ہیں کہ کوئی یونٹ یا پولیس اسٹیشن کے اندر گھسنے کی کوشش کرے تو اسے باہر ہی پکڑ لیا جائے۔
سائل نے اپنی بیوی کو جب مذکور الفاظ " اگر تو میرے یونٹ گئی (جہاں میں کام کرتا ہوں) تو تجھے تین دفعہ طلاق " کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں معلق ہوچکی ہیں، لیکن اگر سائل کی بیوی واقعۃً یونٹ کی حدود میں داخل نہ ہوئی ہو بلکہ یونٹ کی حدود سے باہر تک چلی آئی ہو تو ایسی صورت میں فی الوقت سائل کی بیوی پر معلق طلاقیں واقع نہیں ہوئیں، البتہ آئندہ اگر سائل کی بیوی مذکور یونٹ کی حدود میں داخل ہوگی تو اس پر معلق طلاقیں واقع ہوجائیں گی، اس لئے آئندہ اس معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہے، جبکہ اس کے بعد سائل نے اپنے سالے کو مسئلہ سے لاعلمی کی بنیاد پر طلاق واقع ہونے کی جو اطلاع دی ہے اس سے بھی دیانۃً طلاق واقع نہ ہوگی، اسی طرح سائل نے اپنے بھائی کو موبائل فون پر طلاق واقع ہونے کی جو خبر دی ہے اس سے بھی مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ گھر آنے کے بعد سائل نے اپنی بیوی کو جو الفاظ "آپ کو میں طلاق دیتا ہوں" کہے اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی تھی جس کے بعد عدت کے دوران رجوع کرنے سے یہ رجوع درست ہوچکا ہے، لہٰذا دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں، تاہم سائل کو آئندہ کے لئے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
و فی الھندیۃ : و إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق الخ ( ج۱ ، ص۴۲۰ ، کتاب الطلاق، ط۔ماجدیہ )۔
و فی بدائع الصنائع : و لو قال لامرأته : أنت طالق فقال له رجل : ما قلت ؟ فقال : طلقتها أو قال قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء ؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار . (3/102)-
و فی الھندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.اھ (ج۱،ص۴۷۰ ، کتاب الطلاق ، ط۔ماجدیہ )۔
وفی غمز عیون البصائر فی شرح الأشباہ والنظائر: ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع بإفتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع كما في القنية اھ۔
قوله: ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع( إلى قوله) لم يقع إلخ. أي ديانة أما قضاء فيقع كما في القنية لإقراره به، فإن قيل كيف يتبين خلافه؟ أجيب بأنه يحتمل أن يكون المفتي أفتى غير ما هو في المذهب، فأفتى من هو أعلم منه بعدم الوقوع ويحتمل أن المفتي أفتى أولا بالوقوع من غير تثبت، ثم أفتى بعد التثبت بعدمه.(ج1، ص461، ط۔دارالکتب العلمیۃ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0