کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک سال قبل میرے والد صاحب نے میری غیر موجودگی میں میری اہلیہ کو غصہ میں آکر مارا پیٹا، مار پیٹ کے دوران میری بیوی کے ہاتھ میں گہری چوٹ لگی (ہاتھ کی ہڈی کریک ہو گئی) ، جب میرے سسرال میں اس واقعہ کی خبر پہنچی تو میرے سسرال والے بیوی کو میکہ لے گئے ، تین ماہ تک صلح صفائی کی ناکام کوششوں کے بعد میں نے غصہ میں آکر اکیلے کمرے میں یہ الفاظ کہے ’’ کہ مہ اخپلہ دا خزہ اخپل پلار سرہ پہ یو کوٹہ کہ کینولہ نو مہ ما نہ بہ دہ طلاقہ ئی‘‘ (اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی) یہ الفاظ میں نے تین بار کہے تھے، اب ہمارے مابین صلح ہو گئی ہے اور میرے والدین بضد ہیں کہ میں بیوی کو ان کے ساتھ اپنے گھر میں ہی ٹھہراؤ ، سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا الفاظِ طلاق کے بعد میں بیوی کو اپنے گھر لا سکتا ہوں، جس میں میرے والدین رہائش پذیر ہیں؟ اگر نہیں تو اس کا شرعی حل کیا ہے؟ نیز ہماری صلح کے دوران جرگہ میں میرے سسر نے ہاتھ کے زخم کے علاج کو بنیاد بنا کر چالیس ہزار روپے مجھ سے لۓ ہیں، کہ ہاتھ کے علاج و معالجہ میں چالیس ہزار خرچ ہوئے ہیں، تو ان کا مجھ سے یہ رقم لینا درست ہے ؟
سائل نے جب مذکور الفاظِ طلاق ’’ کہ مہ اخپلہ دہ خزہ الخ‘‘ کہہ دیے، تو اگرچہ یہ الفاظ اکیلے کمرے میں کہے ہوں، تب بھی ان سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں معلق ہو چکی ہیں، چنانچہ اس کے بعد سائل اگر بیوی کو اپنے والد کے ہمراہ ایک گھر میں ٹھہرائے گا، تو اس سے سائل کی بیوی پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہو جائینگی، جس کے بعد نہ رجوع ہو سکے گا، اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح درست ہو گا، اس لۓ اس سے احتراز کیا جائے، جبکہ تین طلاق کے وقوع سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنے والدین کی رضامندی سے اپنے لۓ علیحدہ گھر کا انتظام کرے یا اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے، اور جب تک سائلہ کی عدت ختم نہ ہو جائے ، اس وقت تک سائل اپنی بیوی کو ہر گز والد کے ہمراہ گھر میں نہ ٹھہرائے ، اور جب عدت ختم ہو جائے تو سائل بیوی کو والد کے ہمراہ گھر میں ٹھہرائے، چونکہ اس وقت سائل کی بیوی اس کے نکاح میں نہ ہو گی ، اس لۓ اب بیوی کو گھر میں ٹھہرانے سے اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، اور قسم بھی پوری ہو جائیگی، لہذا پھر اس کے بعد گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ باہم عقد نکاح کر لیں، اس کے بعد سائل کا اپنی بیوی کو والدین کے ساتھ مذکور گھر میں ٹھہرانے سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، تاہم آئندہ کے لۓ سائل کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لۓ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
جبکہ سائل کے والد کا اپنی بہو پر ہاتھ اٹھا نا شرعاً ناجائز تھا، اس لۓ آئندہ کے لۓ ایسے عمل سے احتراز لازم ہے، نیز سابقہ واقعہ میں سائل کے والد کا اپنی بہو کے ہاتھ کی ہڈی کو نقصان پہنچانے کی وجہ سے ان پر ضمان لازم تھا ، لہذا اگر فریقین نے جرگہ والوں کو مذکو ر معاملہ میں فیصل و حکم بنا کر انہیں تمام اختیارات د یدیے ہوں، تو ایسی صورت میں جرگہ والوں کا بطورِ ضمان علاج معالجہ کا خرچہ (چالیس ہزار روپے) دینے کا فیصلہ کرناشر عاًدرست ہے اور فریقین پر اس فیصلہ کی پاسداری کرنا بھی لازم ہے۔
كما في الفتاوى التاتارخانية: رجل قال لإمرأته ’’إن دخلت دار أخی فأنت كذا‘‘ فسكن أخ الحالف دار أخرى و دخلت المرأة تلك الدار الجديدة قال بعضهم إن كانت يمينه لغيظ لحقه من تلك الدار الجديدة قال بعضهم وان كانت يمينه لاجل الاخ حنث في يمينه وان لم تكن له نية يحنث في قول أبي حنیفة و محمد اھ (5/79)۔
وفيها أيضا: رجل قال لإمرأته ’’إن ادخلت فلانا بيتي أو قال إن دخل فلان بیتی (إلى قوله) فاليمين فى الوجه الأول على أن يدخل بأمره اھ (5/64)۔
وفي الدر المختار: فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتحل اليمين فينكحها اھ (3/ 355)۔
وفی مجمع الضمانات: ولو ضرب امرأة حتى صارت مستحاضة يجب الدية وفى الخزانة ينتظر حولا: إن برئت لايجب شئ وإن لم تبرأ فعليه الدية وفي الضلع اذا كسرت حكومة العدل وفى الصلب إذا دق لكن يقدر على ان يجامع ففیه حكومة عدل اھ (1/389)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0