کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص آدھی رات کے وقت دیر سے گھر آتا تھا، اسکی اہلیہ کبھی کمرے کا دروازہ بند کرلیتی اور کبھی کھلا چھوڑ دیتی، ایک مرتبہ رات کے وقت خاوند دیر سے گھر آیا تو اس کی اہلیہ نے کمرے کے دروازے کو اندر سے کنڈی لگائی تھی، اس نے کئی مرتبہ دروازہ کھٹکھٹایا،بیوی سو رہی تھی ،اس نے دروازے کی آواز نہیں سنی ، دروازہ کھولنے پر خاوند نے بیوی کو کہا کہ" بل وار زہ راغلم او دروازہ بندوا نو پہ ثلاثا طلاق بہ زہ دروازہ ما تہ وم"(اگلی دفعہ اگر میرے آنے کے وقت دروازہ بند ہوا تو ثلاثاً طلاق کے ساتھ میں اس دروازے کو توڑوں گا)ایسی صورت میں وقوع ِطلاق کا کیا حکم ہے،وقوعِ طلاق سے بچنے کی کیا صورت ہے،اگر مذکور شخص ایسی صورتحال پیش آنے کی صورت میں دروازہ توڑنے کی کوشش کرے اور کوئی دوسرا آدمی اسکو منع کرے کیا ایسی صورت واقع ہوگی یا نہیں ؟
نوٹ: سائل نے وضاحت کی ہے کہ نیت یہی ہے کہ دروازہ بند ہونے کی صورت میں اگر میں نے نہیں توڑا، تو تجھے تین طلاق۔
صورتِ مسئولہ میں جب مذکور شخص نے مذکور جملہ " بل وار زہ راغلم او دروازہ بندوا پہ ثلاثا طلاق بہ زہ دروازہ ما تہ وم"(اگلی دفعہ اگر میرے آنے کے وقت دروازہ بند ہوا تو ثلاثاً طلاق کے ساتھ میں اس دروازے کو توڑوں گا)کہا تو اس سے اسکی بیوی پر تین طلاقیں معلق ہو چکی ہیں، لہٰذا اب اگر مذکو رشخص گھر میں داخل ہونا چاہے اور دروازہ بند ہونے کی صورت میں اس نے دروازہ توڑنے کی قدرت اور استطاعت کے باوجود دروازہ نہ توڑا تو اسکی بیوی پرتین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی،جس کے بعد نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اور نہ بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہو سکتا ہے،البتہ اگر مذکور شخص یہ چاہتا ہو کہ گھر کا دروازہ بھی نہ توڑے اور طلاق ِثلاثہ کے وقوع سے بھی بچ جائے، تو اس کیلئے یہ تدبیر اختیار کی جا سکتی ہے کہ مذکور شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دے کر اپنے سے الگ کر دے اور اسکی عدت ختم ہونے تک مذکور شخص کے آتے وقت گھر کے دروازے کو ہرگز بند نہ کیا جائے ، پھر جب بیوی کی عدت ختم ہو جائے اور مذکور شخص کے گھر آنے کے وقت دروازہ بند کیا جائے،پھر جب وہ دروازہ کھٹکھٹائے تو دروازہ کھول دیا جائے،چنانچہ اس وقت دروازہ نہ توڑنے کی وجہ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور اس کی قسم بھی پوری ہو جائے گی اور پھر اس کے بعد گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ باہم عقد ِنکاح کر لیں ، اسکے بعد مذکور شخص کے گھر میں آتے وقت اگر دروازہ بند ہوا تواسکو نہ توڑنے پر مزید کوئی طلاق واقع نہ ہو گی، تاہم یہ ملحوظ رہے کہ مذکورشخص کو آئیندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، اس لئے آئیندہ کیلئے طلاق کے معاملے میں احتیاط کرنے کی اشدضرورت ہے،جبکہ اگر کوئی شخص فقط زبانی طور پر مذکورشخص کو منع کردے لیکن وہ دروازہ توڑنے پر قادر ہو تو ایسی صورت میں محض کسی کے منع کرنے سے یہ تعلیق(قسم)پوری نہ ہو گی۔
کما فی الدر المختار:(وحنث في لا يخرج) من المسجد (إن حمل وأخرج) مختارا (بأمره وبدونه)بأن حمل مكرها(لا) يحنث (ولو راضيا بالخروج) في الأصح (ومثله لا يدخل أقساما وأحكاما وإذا لم يحنث) بدخوله بلا أمره أو بزلق أو بعثر أو هبوب ريح أو جمح دابة على الصحيح ظهيرية (لا تنحل يمينه) لعدم فعله (على المذهب) الصحيح فتح وغيره اھ(3/754)
وفی رد المحتار: (قوله فتح وغيره) عبارة الفتح قال السيد أبو شجاع: تنحل وهو أرفق بالناس وقال غيره من المشايخ: لا تنحل وهو الصحيح ذكره التمرتاشي وقاضي خان، وذلك لأنه إنما لا يحنث لانقطاع نسبة الفعل إليه، وإذا لم يوجد منه المحلوف عليه كيف تنحل اليمين فبقيت على حالها في الذمة، ويظهر أثر هذا في الخلاف فيما لو دخل بعد هذا الإخراج هل يحنث؟ فمن قال انحلت قال لا يحنث، وهذا بيان كونه أرفق بالناس، ومن قال لم تنحل قال حنث. ووجبت الكفارة وهو الصحيح. اهـ.(3/755)
و فی الدر المختار: (وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها اھ(3/355)
و فی الھندیۃ: وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط اھ(1/420)
و فیہ ایضاً:وعندهما تعلق الكل بالشرط قدمه أو أخره إلا أن عند وجود الشرط يقع الثلاث إن كانت مدخولا بها في غير المدخول بها تطلق واحدة قدمه أو أخره كذا في فتح القدير اھ(1/374)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0