ترجمہ:میرا سوال یہ ہے کہ کیا بیوی کو یہ کہنے سے "سمجھ لو میں نے تمہیں اپنے نکاح سے نکال دیا"کیا طلاق ہوتی ہے ؟اگر ہوتی ہے تو کیسے واپس رجوع کیا جائے،اور اگر بیوی کو کسی کام سے روکا جائے کہ"اگر تم نے ایسا کیا تو تمہیں طلاق ہو گی"تو کیا واقعی طلاق ہو جاتی ہے ،دونوں صورتوں کی وضاحت کریں۔
شوہر کا اپنی بیوی کو مذکور جملہ کہ "سمجھ لو کہ میں نے تمہیں اپنے نکاح سے نکال دیا"کہہ دینے سے تو شرعاًبیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ، البتہ اگر طلاق کو کسی کام کے وجود کے ساتھ معلق کرکے یہ کہا جائے کہ "اگر تم نے ایسا کیا تو تمہیں طلاق ہے"تو ایسی صورت میں طلاق معلق ہو جائے گی،چنانچہ پھر اگروہ کام کر لیتی ہے،تو اس پر طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
کما فی الدر المحتار :((و فيها تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال (و تنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت اھ(3/356)
و فی الھندیۃ : امرأة قالت لزوجها : " مرا طلاق ده " فقال الزوج: " داده كير و كرده كير " أو قال " داده باد وكرده بادان "نوى يقع و يكون رجعيا وإن لم ينو لا يقع ولو قال: داده است أو كرده است يقع نوى أو لم ينو ولا يصدق في ترك النية قضاء ولو قال: داده إنكار أو كرده إنكار لا يقع وإن نوى اھ(1/380)
وفیھا ایضاً :و إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق و لا تصح إضافة الطلاق إلا أن يكون الحالف مالكا أو يضيفه إلى ملك الخ(1/420)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0