شوہر کا بیان:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ :
1) شوہر نے اپنی بیوی سے کہا ہے کہ جب دو بندے آپس میں موبائل پر گفتگو کیں اور آپ نے اس میں دخل اندازی کرلی تو تم مجھ پر طلاق ہوگی۔
2)اگر آپ نے موبائل پر ڈرامہ وغیرہ دیکھا تو تم کو طلاق ہوگی۔
3) اگر آپ کے سر کے بال غیر محرم دیکھ لے تو تم پر طلاق ہوگی۔
بیوی کا بیان:
1) جی ہاں! دو بندوں کے موبائل پر آپس میں گفتگو کے دوران میں نے دخل اندازی کی ہے ۔
2) جی ہاں! موبائل پر میں نے ڈرامہ دیکھا ہے لیکن اس کی صورت یہ تھی کہ موبائل کسی اور کے ہاتھ میں تھا اور اس پر ڈرامہ چل رہا تھا، اور میں نے اپنے موبائل کا کیمرہ آن کیا اور اس میں ڈرامہ دیکھ رہی تھی، دوسری بات یہ تھی کہ سائیڈ پر شیشہ تھا اور میں شیشہ کی طرف دیکھ رہی تھی اور موبائل مجھے نظر آرہا تھا ، اس پر ڈرامہ چل رہا تھا۔
3) جی ہاں! ایک مرتبہ میں سر پر کنگھی کر رہی تھی کہ اچانک میرے گھر میں مہمان آیا ، جو کہ غیر محرم تھا اس کی نظر میرے بالوں پر پڑگئی۔
نوٹ: یہ تینوں کام ایک مہینہ کے اندر ہوئے ہیں، شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے بیوی سے جو یہ کہا ہے کہ اگر تمہارے سر کے بال کسی غیر محرم نے دیکھے، اس سے میرامطلب یہ تھا کہ شادی وغیرہ میں اگر کوئی غیر محرم تمہارے سر کے بال دیکھے؛ کیونکہ اس سے پہلے میری بیٹی کا عقیقہ تھا ،تو انہوں نے ویڈیو بنائی تھی ، جس میں میری بیوی کے سر کے بال بھی ویڈیو میں آئے تھے، اس لئے میں نے اس سے یہ کہا۔
صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے مختلف اوقات میں سوال میں مذکور الفاظ " 1) جب دو بندے آپس میں موبائل پر گفتگو کریں اور آپ نے اس میں دخل اندازی کرلی تو تم مجھ پر طلاق ہوگی۔ 2)اگر آپ نے موبائل پر ڈرامہ وغیرہ دیکھا تو تم کو طلاق ہوگی۔ 3) اگر آپ کے سر کے بال غیر محرم دیکھ لے تو تم پر طلاق ہوگی" کے ذریعے تین الگ الگ طلاقیں معلق کیں ،تو اس سے بیوی پر یہ تینوں طلاقیں شرعاً معلق ہوچکی تھیں، جبکہ تیسری تعلیق سے متعلق شوہر کا یہ کہنا کہ "اس میں میری نیت شادی ہال وغیرہ میں غیرمحرم کا اس کی بیوی کے بال دیکھنے کی تھی "،شرعاً معتبر نہیں، لہٰذا بقول بیوی کے جب تعلیق کی یہ تینوں شرائط پائی گئیں ، تو اس سے بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: ولو قال لها: إن كلمت فلانا فأنت طالق وقال لها أيضا: إن كلمت إنسانا فأنت طالق فكلم فلانا طلقت تطليقتين۔اھ (1/ 428)۔
وفیھا أیضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (ج1،صـــ473،ط:ماجدیۃ)۔
وفی فتاوی قاضیخان: رجل قال إن رأيت فلاناً فامرأته كذا فرآه ميتاً مكفناً قد غطى وجهه حنث والرؤية بعد الموت والرؤية في الحياة سواء اھ (ج1،صـــ628،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی التنویر مع الدر: (الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض فلو) اغتاظ على غيره و (حلف أن لا يشتري له شيئا بفلس فاشترى له بدرهم) أو أكثر (شيئا لم يحنث) اھ (ج3،صـــ743،ط:سعید)۔
وفی مجموعۃ رسائل ابن عابدین: فقولهم انها مبنية على العرف معناه العرف المستفاد من اللفظ لا الخارج عن اللفظ اللازم له إلخ (ج1،صـــ304،ط:سھیل اکیڈمی)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0