میرا نام عبدا لرحمن ہے، میرا نکاح ۔۔۔۔ کی بیٹی علینہ سے عرصہ ڈھائی سال قبل ہوا تھا، اور ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ہے، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی زوجہ کو عیدی بھیجی جس پر ہماری لڑائی ہوئی اور موبائل پر میری زوجہ نے بہت بدتمیزی کی، جس بناء پر مجھے غصہ آگیا تومیں نے اپنی زوجہ سے کہا کہ ہم باہر ملتے ہیں، بیٹھ کر بات چیت سے مسئلہ حل کرتے ہیں تو میری زوجہ نے ملنے سے انکار کیا، تو میں نے اسے چار دن کے لئے نیول کالو نی میں آنے کو کہا، اور یوں کہا کہ" آپ چار دن کے لئے جب چاہو آسکتی ہو، اگر تو نہ آئی تو طلاق "پھر میری زوجہ چار دن کے لئے آگئی تھی، نیز میں نے بولتے ہوئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا تھا کہ تم نے اس وقت لازمی آنا ہے، براہ مہربانی میرے مسئلہ کا حل فرمایئے؟ آپکا شکر گزار رہونگا۔
سائل نے جب اپنی زوجہ کو مذکورہ الفاظ "آپ چار دن کے لئے جب چاہو آسکتی ہو، اگر تو نہ آئی تو طلاق" بغیر کسی توقیت کے کہے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق معلق ہوچکی تھی، چنانچہ اس کے بعد اگر سائل کی بیوی چار دنوں کیلئے نیول کالونی آچکی ہو تو شرط پوری ہونے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا اب ایک ساتھ رہنے کیلئے تجدید نکاح کی بھی ضرورت نہیں البتہ آئندہ کے لئے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کمافی الھندیۃ: واذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا مثل: ان یقول لامراتہ ان دخلت الدار فانت طالق الخ (ج1 صـ420 کتاب الطلاق الفصل الثالث فی تعلیق الطلاق بکلمۃ ان واذا وغیر ھما ط: ماجدیۃ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0