کیا فرماتے ہے ، علماء کرام مندرجہ ذ یل مسئلہ میں کہ گھر میں لڑائی جھگڑے کے دوران میں مسمیٰ سلمان ولد زرین نے اپنی بیوی مسماۃ نسرین بنت زریم اللہ کو یہ جملہ تین مرتبہ کہا "کہ تہ دہ کور نہ وو وتے نوپہ مابہ طلاق یے "اگر تم گھر سے نکلی تو تم مجھ پر طلاق ہوگی ، اور پھر اسی وقت میری بیوی گھر سے نکل کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی ، میری بیوی حاملہ بھی ہے ، اب معلوم کرنا ہے ، کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ، ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں ، جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں ۔
واضح ہو کہ حمل کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا صورت مسؤلہ میں شخص مذکور نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "اگر تم گھر سے نکلی تو تم مجھ پر طلاق ہوگی "تین مرتبہ کہہ دیے تو شرعاًان الفاظ کے کہنے سے بیوی پر تین طلاقیں معلق ہو چکی تھیں ، چنانچہ اس تعلیق کے بعد بیوی کا گھر سے نکل کر والدین کے گھر چلی جانے سے اس پر تینوں معلق طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد ہو سکتا ہے ، لہذا میاں بیوی پر فوراًایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے ، انہیں چاہیئے کہ آپس میں میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کر یں وگر نہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ، جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعد اپنی مر ضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ(فصل فی الحکم البائن ج3 ص187 ط:سعید )۔
وفی الھندیۃ:واذا أضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاًمثل أن یقول کامرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ (کتاب الطلاق الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ج1 ص488 ط:ماجدیہ)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0