السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !
آج سے تقریباََ پانچ سال قبل میں سعودی عرب میں تھا کہ گھر سے بچہ اپنی ماں سے 22ہزار روپے لے کر بھاگ گیا جسکی وجہ سے میری بیوی نے زہریلی گولیاں کھا کر خود کشی کرلی مگر بروقت ہسپتال پہنچ جانے کی وجہ سے جان بچ گئی , مجھے جب اس بات کا پتہ چلا تو بہت غصہ آیا اور میں نے کہا کہ فوراً بچے سے پیسے ریکور کیے جائیں "اگر شام تک پیسے مجھے ویڈیو کال پر نظر نہیں آئے تو میری طرف سے تجھے تین طلاق ہے" اور میرا گھر چھوڑ کر چلی جانا , چنانچہ شام کو میری بیگم نے ویڈیو کال پر پیسے دکھائے اور میں مطمئن ہوگیا , دل سے طلاق دینےکا مقصد ہرگز نہ تھا بلکہ ڈرانا اور بچے کی اصلاح کرنی تھی کہ اتنے پیسے لے کر کوئی غلط قدم نہ اٹھا لے , مگر آج پانچ سال گزرنے کے بعد میری بیگم نے جو انکشاف کیا , میں بحیثیت مسلمان سخت پریشان ہوں , آج میری گھر والی کہتی ہے کہ وہ جو پیسے ویڈیو کال پر دکھائے گئے تھے وہ اور تھے اور اُس وقت اصل پیسے تھوڑا دور تھے جوکہ رات تک میرے پاس پہنچ گئے تھے مگر دیکھائے گئے پیسے وہ نہیں تھے ,جبکہ ہم گزشتہ پانچ سال سے اکٹھے رہ رہے تھے، اب پانچ سال بعد اس بات کو ظاہر کرنا , اسلام اس پر کیا حکم صادر کرتا ہے رہنمائی کیجئے پلیز ؟
سائل نے سوال میں اس بات کی صراحت نہیں کی کہ سائل نے معلّق طلاق کے وقوع کیلئے مقررہ وقت سے قبل اپنی بیوی کیساتھ ویڈیوکال پربات کی تھی یااس کے بعد ؟تا کہ اس کےمطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائل نےمقررہ وقت سے قبل اپنی بیوی کیساتھ ویڈیوکا ل پربات کی تھی اور سائل کی بیوی نے اسے رقم ویڈیو کال کے ذریعے دکھادی تھی ،اگرچہ وہ رقم بیٹے سے ریکورشدہ کے علاوہ تھی ،لیکن چونکہ سائل نے اپنے الفاظ "اگرشام تک پیسے مجھے ویڈیو کال پر نظر نہیں آئے تو میری طرف سے تجھے تین طلاق ہے " میں کسی مخصوص رقم کی تعین نہیں کی تھی ،اس لئے مقرر ہ رقم ویڈیو کال کے ذریعےدکھائے جانے کی صورت میں شرط پوری ہوگئی ،اور اس کی وجہ سے سائل کی بیوی پر معلّق طلاقیں واقع نہیں ہوئیں ،چنانچہ اس کے بعد دونو ں کیلئے عرصہ پانچ سال سے میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً درست تھا، جبکہ اس کے بعد سائل نے تین ماہ قبل بیوی کیساتھ تلخ کلامی کے دوران جوالفاظ کہے " میری لسٹ یا کاغذوں میں تم فارغ ہو"ان الفاظ کے سیاق و سباق میں غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ الفاظ طلاق کی غرض سے نہیں کہے گئے ،اور سائل بھی ان الفاظ کے ذریعے طلاق دینے کی نیت و ارادے سے انکاری ہے ، لہذا مذکورالفاظ سے بھی سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،تاہم آئندہ کیلئے سائل کو اس طرح کے الفاظ کہنے میں احتیاط سے کام لیناچاہیئے ۔
کما فی الھندیۃ : إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة إن تزوجتك فأنت طالق(1/420)۔
و فی الدرالمختار : و الكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب ، أو لا و لا (فنحو اخرجي و اذهبي و قومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا ، و نحو خلية برية حرامبائن) و مرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا ، و نحو اعتدي و استبرئي رحمك ، أنت واحدة ، أنت حرة ، اختاري أمرك بيدك سرحتك ، فارقتك لا يحتمل السب و الرد ، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب و المذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال و القول له(3/300)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0