میرے شوہر نے کہا اگر ٹک ٹاک استعمال کیا تو طلاق ہو جائیگی ، پھر ہماری لڑائی ہوئی انہوں نے مجھے مارا اور بولا ایک طلاق دیتا ہوں ، پھر بولا اب اگر ٹک ٹاک کو اوپن بھی کیا تو دو طلاقیں اور ہو جائیں گی ، میں نے غلطی سے اوپن کر دیا ، پھر میرے شوہر نے کہا میں نے شرط واپس لے لی تھی ، پھر کہا میری نیت نہیں تھی میں ڈرا رہا تھا ، پھر دو سے تین گھنٹے بعد کہا کہ اب دوبارہ اوپن کیا تو طلاق ، پھر اگلے دن بولا میں واپس لے رہا ہوں ، پھر میں نے ٹک ٹاک اوپن کیا بار بار ، کیا طلاق کی شرط واپس لے سکتے ہیں ؟ میں جاننا چاہتی ہوں کیا تین طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟
واضح ہو کہ طلاق معلق کرنے کے بعد ، شوہر کو اسے واپس لینے کا شرعا کوئی اختیار نہیں ہوتا اور نہ ہی واضح الفاظ میں طلاق دینے کے لئے نیت کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ بغیر نیت کے صریح الفاظ کے ساتھ معلق کی جانے والی طلاق بھی تعلیق کی شرط پائی جانے کی صورت میں معلق طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا جب شوہر نے تین مختلف مواقع پر اپنی بیوی کے ٹک ٹاک استعمال کرنے اور اسے کھولنے پر تین طلاق معلق کی تھی تو وہ تمام طلاقیں معلق ہو چکی تھیں ، اور بعد میں شوہر کا اسے واپس لینے سے وہ تعلیق ختم نہیں ہوئی ، بلکہ بدستور برقرار رہی ، چنانچہ پہلی تعلیق کے بعد جب شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران " ایک طلاق دیتا ہوں " جیسے صریح الفاظ سے ایک طلاق رجعی دے دی اور دورانِ عدت رجوع کرلیا تو اس سے رجوع بھی درست ہوا ہے ، اس کےبعد ٹک ٹاک کے کھولنے پر مزید تین طلاقیں معلق کرنے اور بیوی کا اسے کھولنے اور استعمال کرنے پر بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوکر مجموعی طور پر سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، جبکہ بقیہ طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کےبغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہٰذا میاں و بیوی پر فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ، نیز عورت ایام عدت گزر جانے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الھندیۃ : و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً مثل ان یقول لأمرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ ( فصل فی تعلیق الطلاق الخ ، ج 1 ، ص 420 ، ط : ماجدیہ ) ۔
و فیہ ایضاً : و لو قال لھا اذا دخلت الدار أو کلمت فلانا أو صلیت الظھر اذا جاء رأس الشھر فانت طالق ثنتین ( الی قولہ ٰ) لان الرجوع عن التعلیق لا یصح فلا یمکنہ التدارک الخ ( باب فی الاقرار بالنکاح ، ج 4 ، ص 209 ) ۔
وفیہ ایضاً : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحا و یدخل بھا تم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ الخ ، ج 1 ، ص 473 ، ط : ماجدیہ ) ۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0