کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ :
میری بیٹی کا رشتہ مردان میں ہوا ہے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ وہیں رہتی تھی، پچھلی چھوٹی عید پر ہم اُسے کراچی لائے تھے اور ان کے شوہر کے ساتھ طے ہوا تھا کہ عید کے دوسرے دن ہم پہنچا دینگے، لیکن دوسرے دن ہم نہ پہنچا سکے، تیسرے دن ان کے شوہر اور میرے داماد محمد عباس نے مجھے فون کیا اور اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے میری اور ان کی باتوں میں تیزی اور تلخی آئی، انہی باتوں کے دور ان داماد نے غصہ میں آکر کہا کہ ’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی اور میں طلاق بھیج دونگا‘‘ واضح رہے کہ ابھی تک میری بیٹی نہیں گئی، اب آپ حضرات بتائیں کہ کیا میری بیٹی کارشتۂ ازدواج میرے داماد کے ساتھ اب بھی برقرار ہے یا نہیں ؟ اگر رشتہ ختم ہو چکا ہے تو دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے خانہ آبادی کی شرعاً گنجائش ہے یا نہیں؟
نوٹ: سائل کے داماد نے بھی یہاں آکر ان کے بیان کی تصدیق کی، پوچھنے پر اس نے بتایا کہ یہ بولتے وقت کہ ’’ وہ میری بیوی نہیں ہوگی ‘‘میرے ذہن اور دل میں طلاق کی نیت نہیں تھی۔
سائل کے داماد کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ اس نے مذکور الفاظ ’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر الخ‘‘ کہتے وقت طلاق کی نیت نہ کی تھی، تو ان الفاظ سے کوئی طلاق معلق نہ ہوئی تھی، چنانچہ اس کے بعد دو دن کے اند رسائل کی بیٹی کا شوہر کے گھر نہ جانے کی وجہ سے اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے، لیکن آئندہ کے لۓ طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے۔
فی الدر المختار: لست لك بزوج أو لست لي بامرأة. أو قالت له لست لي بزوج فقال صدقت طلاق إن نواه خلافا لهما اھ (3/ 282)۔
وفی الدر المختار: (قوله طلاق إن نواه) لأن الجملة تصلح لإنشاء الطلاق كما تصلح لإنكاره فيتعين الأول بالنية وقيد بالنية لأنه لا يقع بدونها اتفاقا لكونه من الكنايات، وأشار إلى أنه لا يقوم مقامها دلالة الحال لأن ذلك فيما يصلح جوابا فقط وهو ألفاظ ليس هذا منها. وأشار بقوله طلاق إلى أن الواقع بهذه الكناية رجعي، كذا في البحر من باب الكنايات اھ (3/ 283)۔
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0