السلام علیکم جناب!
مؤرخہ 24 اکتوبر 2023 کو زید کی اپنی بیوی سے گزشتہ کچھ معاملات کے بارے میں تفصیلات چھپانے اور جھوٹ بولنے پر لڑائی جاری تھی ، بیوی تفصیلات سے آگاہ کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ مکمل تفصیلات مہیاکر دی ہیں , زید بیوی کو تنبیہ کے لئے ایک پرچی لکھ کر دیتا ہے جس کی عبارت درجِ ذیل ہے: "اگر آج مؤرخہ 24 اکتوبر 2023 کے بعد تم نے مجھ سے کوئی بھی بات چھپانے کی کوشش بھی کی یا مجھ سے جان بوجھ کر جھوٹ بولا یا گذشتہ معاملات کے بارے میں کوئی بھی چیز مجھ سے جان بوجھ کر چھپا کر رکھی ہوئی تو میری طرف سے طلاقِ رجعی ہے"، پرچی پر درج تحریر کچھ خاص معاملات کے بارے میں لکھی گئی تھی جو کہ زید بیان نہیں کر سکتا ، زید حلفاً اقرار کرتا ہے کہ مذکورہ تحریر کا مقصد یہ تھا کہ بیوی بیان کیے گئے کاموں میں سے کوئی ایک بھی یا سارے کام خدا نخواستہ کرتی ہے تو اس صورت میں صرف ایک طلاق واقع ہو اور اس کے بعد بیوی سے متعلقہ معاملے کے بارے میں پوری جانکاری حاصل کر کے رجوع کر سکے اور اپنے رشتے کو بحال رکھ سکے , اسی لئے طلاق رجعی کا لفظ تحریر میں بھی استعمال کیا ، پرچی دیتے وقت زید اپنی بیوی کو آگاہ کرتا ہے کہ اگر تم سے پرچی پر درج عبارت کے مطابق کوتاہی ہو جاتی ہے اور غلطی سرزد ہونے کی صورت میں بات کو زیدکے علم میں نہیں لاتی تو تین مہینے بعد رشتہ یعنی کہ نکاح ختم ہو جائے گا (جیسے کہ طلاقِ رجعی کی صورت میں تین مہینے یا عدت کے دوران رجوع نہ کیا جائے تو تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہوتی ہے) اور رات 12 بجے تک کا وقت دیتا ہے کہ تمام معلومات آج کی تاریخ میں مہیا کر دو ، اس کے بعد بیوی مزید کچھ تفصیلات فراہم کرتی ہے اورمکمل تفصیلات کی فراہمی کا یقین کراتی ہے ، مؤرخہ 25 اکتوبر 2023 کو زیدکو احساس ہوتا ہے کہ گذشتہ روز مہیا کی گئی معلومات یا تفصیلات مکمل نہیں تھی ، اس پر جب بیوی سے سوال کرتاہے تو بیوی نے بتایا کہ میرے پاس معلومات یا تفصیلات بتانے کے لئے تین ماہ کا وقت موجود ہے ، جبکہ زیدکی طرف سے دی گئی مہلت مؤرخہ 24 اکتوبر 2023 کو رات 12 بجے ختم ہو چکی تھی ، زیدکی بیوی کچھ ہفتوں کی حاملہ ہے اور انکا ایک 11 ماہ کا بچہ بھی ہے ,دونوں میاں بیوی ساتھ رہنا چاہتے ہیں ، زید نے اپنی نیت , ارادہ الفاظ اور تنبیہ کے لئے لکھی ہوئی پرچی کے بارے میں اللہ تعالی کو حاضر جان کر اپنے علم اور یادداشت کے مطابق سچ بیان کیا ہے اور اگر انجانے میں زید سے کوئی بھول ہوئی ہو تو اللہ تعالی سے معافی کا طلبگار ہے۔
سوال نمبر 1:- برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ الفاظ و تحریر کا اطلاق زید کی آئندہ زندگی میں تو نہیں ہوگا ؟
سوال نمبر 2:- رجوع کے بعد زیدکے رشتے کی صحت پر کیا فرق پڑے گا ؟
ضروری گذارش : برائے مہربانی اس معاملے کو ممکن حد تک پردےمیں رکھنے کی استدعا ہے۔ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ اگر کوئی شخص طلاق کو کسی کام کے کرنے پر معلق کردے تو ایک دفعہ شرط پائی جانے پر طلاق واقع ہو کر تعلیق ختم ہو جاتی ہے ، چنانچہ دوبارہ شرط پائی جانے پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
چنانچہ صورتِ مسئولہ میں اگر زید نے اپنی بیوی کو رات بارہ بجے تک کا وقت دے کر مذکور پرچی لکھ کر دے دی ہو تو اس سے تعلیقِ طلاق منعقد ہو چکی تھی ، لہذا اگر زید کی بیوی نے بارہ بجے کے بعد مذکور معلومات و تفصیلات میں سے کوئی بات چھپائی ہو تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو کر مذکور تعلیق و شرط ختم ہو چکی ہے ، دوبارہ مذکور کام کرنے پر زید کی بیوی پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی،لہذا زید اگر دورانِ عدت(وضع حمل تک)زبانی طور پر رجوع کر لے کہ مثلاً میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے بھی رجوع درست ہو جائے گا اور دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا ، ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی اور اس کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا ، بہر صورت شوہر کو آئندہ کے لئے فقط دو طلاق کا اختیار باقی رہے گا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الدر مع رد المحتار: (و فيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال
(قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي و تتم ، و إذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم و التكرار لغة نهر(3/352)-
و فیہ ایضاً: (و تنحل)الیمین(بعد)وجود(الشرط مطلقا)
(قوله و تنحل اليمين إلخ) لا تكرار بين هذه و بين قوله فيما سبق و فيها تنحل اليمين إذا وجد الشرط مرة لأن المقصود هناك الانحلال بمرة في غير كلما و هنا مجرد الانحلال اهـ
و فی الہندیہ: اذااضافہ الی الشرط ، وقع عقیب الشرط(1/420)-
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0