میں موبائل اور الیکٹرانکس چیزوں کی خرید و فروخت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں، امریکہ میں الیکٹرانکس بلکہ فرنیچر وغیرہ کے معاملے میں وہ یہ طے کرتے ہیں کہ اگر آپ نے چیز کی قسطوں سمیت مکمل ادائیگی چھ ماہ یا ایک سال کے اندر اندر کردی ،تو وہ قسطوں پر سود نہیں لیتے، اگر ان اقساط میں سے کسی ایک میں تاخیر ہو گئی ،تو اس حساب سے متعین سود لگاتے ہیں، کیا اسلام میں اس طرح کے معاملے کی اجازت ہے؟ اس کا متبادل کوئی طریقہ ہو تو وہ بھی بتادیں۔
واضح ہو کہ نقد کے مقابلے میں ادھا ریا قسطوں پر کوئی چیز مہنگی فروخت کرنا شرعاً بھی جائز اور درست ہے، بشرطیکہ ہر قسط کی مالیت مجلسِ عقد میں طے کر لی گئی ہو ، البتہ مجلس ِعقد میں ایک دفعہ قسط کی مالیت طے ہونے کے بعد اس کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے اس پر کسی بھی زائد رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً نا جائز اور حرام ہے، اس لئے سوال میں مذکور " الیکٹرانکس" وغیرہ کے معاملات میں قسطوں کی ادائیگی میں تاخیر کیوجہ سے سود کا مطالبہ کرنا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے اور اس شرط کو ختم کرنے سے معاملہ شرعاً بھی درست ہو گا۔
كما في سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة» و في الباب عن عبد الله بن عمرو، وابن عمر، وابن مسعود: «حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح» والعمل على هذا عند أهل العلم، وقد فسر بعض أهل العلم قالوا: بيعتين في بيعة أن يقول: أبيعك هذا الثوب بنقد بعشرة، وبنسيئة بعشرين، ولا يفارقه على أحد البيعين، فإذا فارقه على أحدهما فلا بأس إذا كانت العقدة على أحد منهما " اھ (3/ 525)۔
و في المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1